صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
Poetry Banner

رومانوی غزل

Poetry Category 64 All Kalam

یا دو میں اس کی ہر گھڑی کھویا نہیں رہا

شاید اب ان کو ہم سے محبت نہیں رہی

وہ مجھ سے بچھڑ کر چلا بھی گیا

شاید ہو آخری مرا دیدار دیکھ لو

میرے حالات سے جب تو بھی گزر جائے گا

بات یہ وہ بھی جانتے ہوں گے

ماضی میں جو مرا تھا وہ میرا نہیں رہا

اس شخص کی یادوں مِیں مَیں الجھا نہیں رہا

میں تو ترا تھا پر تو مرا کیوں ہوا نہیں ؟

میں نے چاہا جسے دل و جاں سے

آپ کو پانے کی ہے اِس دل میں حسرت آج بھی

آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو

میرے غمگین دل کی فرحت ہو

کیا بتاؤں کہ کیا ہوا جاناں

مت ہو ناراض کہ ہے دور منانے والا

میں جو کہتا ہوں وہ سنا کیجے

جو ان کے بارے میں سوچا وہ اب کس حال میں ہوں گے

میری نظروں میں فقط رہتا ہے چہرہ ان کا

بہت ہی خوف تھا وحشت تھی تب کہاں تھے تم

تلاش کر لو ملے گا کلامِ خان میں کیا ؟

حاضرِ در ہے تجھے دل میں بسانے والا

کس کے لیے بنائیں گے پکوان عید کا

ساتھ تا عمر رہیں گے یہ کہا تھا تو نے

آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو

درمیاں دوری ہیں جتنی وہ مٹائیں جاناں

کیا بتاؤں کہ کیا ضروری ہے

دیدار یار یار کو کرنے نہیں دیا

شکایتوں کو بھلاؤ کہ عید آئی ہے

ہے یہ ارمان کے دیدار کو آؤں جاناں

یہی ہے فرض مجھ پہ میں کروں کوشش منانے کی

اس عشق و محبت سے گزر جاؤ گے تم بھی

تمہیں ہر دم منانے میں لگا ہوں

ہمیں بھی راہوں میں تنہا ملا کرے کوئی

تام الفت کا مرا یہ سلسلہ ہو جائے گا

شمول کس کا ہے اب آپ کی دعاؤں میں ؟

یقین مانو اے یارو ! میں بے شراب رہا

وہ شخص میری آنکھوں کا تارا نہ ہو سکا

تم ایک بات سنو اس کو بے وفا نہ کہو

ہاتھ دینا نہ کسی کو بھی تھما میرے بعد

پھول سا کھلتاترا چہرہ جدھر جاۓگا

رہ وفا میں کوئی راہبر نہیں آیا

دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا

تنہائی میں

کیا کہوں دل صورتِ ظالم پہ کیوں قربان ہے

دل لگانا بری بلا ہے

سنو، سنو دلِ نجمیؔ میں جاگزیں تم ہو

دورِ وفا جہان سے کب کا گزر گیا

جب سے دل کو ملا رابطہ آپ کا

ہم ان کو دیکھ کے زار و قطار روئیں گے

جائیں کس سمت راستہ ہی نہیں

حسیں تو تھا ہی مگر تُو ذہین کتنا تھا

کوئی بات نہیں

عین شین قاف نہ کر

کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے

دردِ دل سے مجھے شفا دے دے

رخِ محبوبِ من مثلِ قمر ہے

تری گلی میں نہ آتے جاتے تو اچھا ہوتا

حال یہ میری مفلسی کا ہوا

خون کے آنسو رلاتا ہے مجھے یہ دردِ دل

تبسم ریز مثل گل لبوں سے

آ جاؤ محبت کا چلو سوگ منائیں

عشق ہے زہرِ ہلال

مرے یارو! بڑی دشواریاں ہیں

راہ میں چھوڑ کے تو مُجھ کو اگر جائے گا

تمام شعراء