صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
510 Posts
1

یا دو میں اس کی ہر گھڑی کھویا نہیں رہا

2

یہ اِکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا

3

ہم نے تقصیر کی عادت کرلی

4

ہوں جو یادِ رُخِ پرنور میں مرغانِ قفس

5

ہو اگر مدحِ کف پا سے منور کاغذ

6

ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا

7

واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا

8

نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری

9

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیال رحمت تھپک رہا ہے

10

نہ مایوس ہو میرے دُکھ دَرد والے

11

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

12

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں

13

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں

14

شکرِ خالق کس طرح سے ہو ادا

15

ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دَربار

16

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے

17

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے

18

سن لو میری اِلتجا اچھے میاں

19

مَدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع

20

مرحبا عزت و کمالِ حضور

21

اے حبِ وطن ساتھ نہ یوں سوئے نجف جا

22

اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا

23

نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا

24

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا

25

مُعْطِیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہوگیا

26

مجرمِ ہیبت زَدہ جب فردِ عصیاں لے چلا

27

خواجۂ ہند وہ دَربار ہے اَعلیٰ تیرا

28

ہوگیا ختم یہ رسالہ آج

29

کرے چارہ سازی زِیارت کسی کی

30

کیا خدا داد آپ کی اِمداد ہے

31

کیا کریں محفلِ دِلدار کو کیونکر دیکھیں

32

کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں

33

کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف

34

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج

35

کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا

36

نعتِ حسن آمدہ نعتِ حسن

37

شیخِ زمانہ حضرتِ سید ابوالحسین

38

قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا

39

فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اَعلٰی تیرا

40

اَلسَّلَام اے خسروِ دنیا و دِیں

41

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ

42

عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں

43

عاصیوں کو در تمہارا مل گیا

44

طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شانِ جمال

45

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

46

سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض

47

سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر

48

سحابِ رحمت باری ہے بارہویں تاریخ

49

سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب

50

سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا

51

جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو

52

رحمت نہ کس طرح ہو ُگنہ گار کی طرف

53

رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند

54

ذاتِ والا پہ بار بار دُرود

55

یہ چند وَرق نعت کے لایا ہے غلام آج

56

اچھے کے پیارے میرے سہارے

57

دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے

58

شاید اب ان کو ہم سے محبت نہیں رہی

59

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

60

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو

61

دشتِ مَدینہ کی ہے عجب پربہار صبح

62

دردِ دِل کر مجھے عطا یارب

63

دشمن ہے گلے کا ہار آقا

64

دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا

65

خوشبوئے دشت ِطیبہ سے بس جائے گر دِماغ

66

خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وَقعت محفوظ

67

خدا کی خلق میں سب انبیا خاص

68

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے

69

چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط

70

جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے

71

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی

72

جاتے ہیں سوئے مَدینہ گھر سے ہم

73

جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک

74

وہ مجھ سے بچھڑ کر چلا بھی گیا

75

جنابِ مصطفیٰ ہوں جس سے نا خوش

76

جتنا مِرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز

77

جو نور بار ہوا آفتابِ ُحسنِ َملیح

78

جاں بلب ہوں آ مری جاں اَلْغِیَاث

79

جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب

80

جن و اِنسان و مَلک کو ہے بھروسا تیرا

81

ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں

82

جُبِّ آلِ رسول بحرِ عرفاں

83

حسنؔ اپنے محسن کی ہو کچھ ثنا

84

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے

85

تم ہو حسرت نکالنے والے

86

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

87

تیرے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم

88

ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق

89

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا

90

تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سروَر کا

91

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے

92

پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یاغوث

93

پرنور ہے زمانہ صبحِ شبِ وِلادت

94

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی

95

باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے

96

بزمِ محشر منعقد کر میرِ سامانِ جمال

97

باغ جنت کے ہیں بہرِ مَدح خوانِ اَہلِ بیت

98

اے کریم ابنِ کریم اے رہنما اے مقتدا

99

اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری

100

اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو

101

اَسیروں کے مشکل کشا غوثِ اعظم

102

اللہ برائے غوثِ اعظم

103

اے مَدینے کے تاجدار سلام

104

اے دین حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم

105

اگر چمکا مقدر خاک پائے رہرواں ہو کر

106

اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا

107

ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا

108

آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے

109

آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا

110

شاید ہو آخری مرا دیدار دیکھ لو

111

رحمت رحمان سایہ بن کے چھائی دیکھ لو

112

میرے حالات سے جب تو بھی گزر جائے گا

113

خیر یہ بات ہے ابھی کل کی

114

آؤ پھر سے شروع کرتے ہیں

115

بات یہ وہ بھی جانتے ہوں گے

116

ان کی ناموس پہ قربان دل و جاں کرنا

117

ہے یہی آقا کا فرمان اے بنت حوا

118

یا اِلٰہی ذیلِ ایں شیراں گِرفتم بندہ را

119

یَا اِبْنَ ہٰذَا الْمُرْتَجٰی یَا عَبْدَ رَزَّاقِ الْوَریٰ

120

یَلَّلے خوش آمدَم در کُوئے بغداد آمدَم

121

یا شہیدِ کربلا یا دافعِ کرب و بلا

122

یا خدا بہرِ جنابِ مصطفٰی امداد کُن

123

یاالہٰی رحم فرما مصطفٰی کے واسطے

124

یاالہٰی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو

125

یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو

126

یادِ وطن سِتم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں

127

ہم خاک ہیں اور خاک ہی مَاوا ہے ہمارا

128

ہے لبِ عیسٰی سے جاں بخشی نِرالی ہاتھ میں

129

ہے کلامِ الہٰی میں شَمس و ضُحٰے ترے چہرۂ نور فزا کی قسم

130

واہ کیاجُود و کرم ہے شَہِ بَطْحا تیرا

131

وہی ربّ ہے جس نے تجھ کو ہَمہ تن کرم بنایا

132

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

133

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

134

وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس وضُحٰے کرتے ہیں

135

وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقْص جہاں نہیں

136

وہ سُوئے لالہ زار پِھرتے ہیں

137

آج یومِ ولادت ہے سرکار کا مرحبا مرحبا

138

چمکاہےماہِ انور سرکار آگئے ہیں

139

ماضی میں جو مرا تھا وہ میرا نہیں رہا

140

اس شخص کی یادوں مِیں مَیں الجھا نہیں رہا

141

حَمْدًا لَکَ یَا مُفَضِّلِ عَبْدُالْقَادِر یَا ذَاالْاَفْضَال

142

نظر اِک چمن سے دو چار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے

143

نہ عرشِ ایمن نہ اِنِّیْ ذَاھِبٌ میں میہمانی ہے

144

نبی سرورِ ہر رسول و ولی ہے

145

نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہار عارِض

146

نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا

147

نہ آسمان کو یوں سرکَشیدہ ہونا تھا

148

مژدہ باد اے عاصیو! شافِع شہِ اَبرار ہے

149

گریۂ کُن بُلبلا از رنج و غم

150

ماہ سیما ہے اَحْمدِ نوری

151

مُرتَضیٰ شیرِ خدا مَرحَب کُشا خَیبر کَشا

152

مژدۂ رحمت حق ہم کو سنانے والے

153

ملکِ خاصِ کِبریا ہو

154

مصطفٰی خیرُالْوَرٰے ہو

155

مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دِل سے

156

محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا

157

لَحد میں عشقِ رخِ شہ کاداغ لے کے چلے

158

“لَم یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ”مثلِ تو نہ شُد پیدا جانا

159

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا

160

گنہ گاروں کو ہاتِف سے نوید خوش مآلی ہے

161

گزرے جس راہ سے وہ سیِّدِ والا ہو کر

162

کعبہ کے بَدرالدُّجی تم پہ کروروں درود

163

کِس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اُجالا کیا ہے

164

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے

165

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ

166

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل

167

قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی

168

غم ہو گئے بے شمار آقا

169

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

170

عرشِ حق ہے مسندِ رِفعت رسول اللہ کی

171

عِشق مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

172

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں

173

طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ

174

طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث

175

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

176

شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے

177

شاہِ بَرَکات اے ابُو البرکات اے سلطانِ جُود

178

شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا

179

سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا

180

سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالٖ

181

سچی بات سکھاتے یہ ہیں

182

سیّد کونین سلطانِ جہاں

183

سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے

184

سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے

185

سرور کہوں کہ مالک و مَولیٰ کہوں تجھے

186

سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی

187

سر تا بقدم ہے تن سُلطانِ زَمن پھول

188

زمین و زماں تمہارے لئے مَکِین و مکاں تمہارے لئے

189

زِ عکست ماہِ تاباں آفرِیدَند

190

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو

191

زائرو پاسِ اَدب رکھو ہَوَس جانے دو

192

زہے عزّت و اِعتلائے مُحَمَّد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ واٰلہ سَلَّم

193

آتے رہے اَنبیا” کَمَا قِیْلَ لَھُمْ”

194

پیشہ ِمرا شاعری نہ دعویٰ مجھ کو

195

راہ پُرخار ہے کیا ہونا ہے

196

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

197

رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

198

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں

199

رشکِ قمر ہُوں رنگ رُخِ آفتاب ہُوں

200

ذرّے جھڑ کر تری پیزاروں کے

201

دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے

202

دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے

203

خوشا دِلے کہ دِہندَش ولائے آلِ رسول

204

خراب حال کیا دِل کو پُرمَلال کیا

205

حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے

206

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو

207

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

208

چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو

209

جو تیرا طِفْل ہے کامل ہے یا غوث

210

جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست

211

تِرا ذرّہ مَہِ کامل ہے یا غوث

212

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا

213

تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک

214

تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب

215

پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زَار ہم

216

پھر اُٹھا وَلولۂ یادِ مُغِیلانِ عرب

217

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے

218

پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو

219

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں

220

پُوچھتے کیا ہو عَرش پر یوں گئے مصطفٰے کہ یوں

221

برتر قیاس سے ہے مقامِ ابُوالحسین

222

بَکارِ خَویْش حَیرانَم” اَغِثْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللہ”

223

بَندہ اَم وَالْاَمْرُ اَمْرُکْ آنچہ دانی کُن بمن

224

باقیِ اَسیاد یا سَجّاد یا شاہِ جواد

225

بَدل یا فَرد جو کامل ہے یا غوث

226

بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر

227

بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر

228

بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے

229

بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا

230

اَیْکِہ صَد جاں بَستہ در ہر گوشۂ داماں توئی

231

اے بَدَورِ خود امامِ اہلِ اِیقاں آمدَہ

232

اے اِمامُ الہدیٰ محب رسول

233

میں تو ترا تھا پر تو مرا کیوں ہوا نہیں ؟

234

اَلسَّلام اے اَحمدَت صِہْر و بَرادر آمدَہ

235

“اَلَا یٰایُّھَا السَّاقِیْ اَدِرْ کَاْسًاوَّ نَاوِلْھَا”

236

اُمَّتان و سیاہ کاریْہا

237

اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے

238

ایمان ہے قالِ مُصطَفائی

239

اے شافعِ تردامناں وَے چارۂ دردِ نِہاں

240

اے شافعِ اُمَم شہِ ذِی جاہ لے خبر

241

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تِیکھا تیرا

242

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

243

اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے

244

اللہ اللہ کے نبی سے

245

اُن کی مہک نے دِل کے غُنچے کِھلا دئیے ہیں

246

اہلِ صِراط رُوحِ امیں کو خبر کریں

247

آہ یا غَوثاہ یا غَیثاہ یا امداد کن

248

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

249

میں نے چاہا جسے دل و جاں سے

250

عرس رضا مبارک ہو! – محفوظ مرا دین اور ایمان رہا ہے

251

اس کو محبوب میں تو تھا ہی نہیں

252

یہ عرسِ رضا عرسِ رضا عرسِ رضا ہے

253

سیدی احمد رضا

254

آپ کو پانے کی ہے اِس دل میں حسرت آج بھی

255

آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو

256

میرے غمگین دل کی فرحت ہو

257

کیا بتاؤں کہ کیا ہوا جاناں

258

مت ہو ناراض کہ ہے دور منانے والا

259

میں جو کہتا ہوں وہ سنا کیجے

260

جو ان کے بارے میں سوچا وہ اب کس حال میں ہوں گے

261

میری نظروں میں فقط رہتا ہے چہرہ ان کا

262

زمانے بھر میں ہے چرچا مرے مخدومِ ملت کا

263

درد دل سینے سے ہم اپنے لگائے ہوئے ہیں

264

غیر تو غیر ہیں جو خوار سمجھتے ہیں مجھے

265

بہت مشکل میں ہے بندہ تمہارا یا رسول اللہ

266

بہت ہی خوف تھا وحشت تھی تب کہاں تھے تم

267

تلاش کر لو ملے گا کلامِ خان میں کیا ؟

268

ہے ٹوٹا مجھ پہ جبالِ الم غریب نواز

269

حاضرِ در ہے تجھے دل میں بسانے والا

270

بلبل و قمری کے لب پر ہے صدا پروردگار

271

فرازِ عرش سے اونچا ہے جھنڈا انکی عظمت کا

272

منقبت ِ غوث پاک/ طفیلِ مصطفیٰ ہے فیضِ باری غوثِ صمدانی

273

قیامت تک لحد کا گوشہ گوشہ جگمگائے گا

274

جوش پر جب آئی رحمت آپ کی

275

ملے گا مجھکو حصہ جنتِ محبوب داور سے

276

جھوٹ سے پردہ اٹھایا تو برا مان گیے

277

رحمت و نور کے انبار میں آ جاتے ہیں

278

منقبت ِ سیدنا صدیق اکبر/ وَ مِنھُم سَابقٌ صدقہ مرے صدیق اکبر کا

279

منقبت خواجہ غریب نواز/ تو گلِ باغِ حیدری خواجہ

280

سِل گئے ہونٹ زباں اپنی ہلائیں کیسے

281

منقبت مفتی اعظم/ جام و مینا ساغر و خم مَے کشی اچھی نہیں

282

بیٹھا تھا سانپ برسوں سے بس اسی انتظار میں

283

زمانے میں آہ و فغاں دیکھتے ہیں

284

برکاتِ قرآن

285

مخالف ہیں ہمارے سب نہ جانے کیوں یہاں کب سے

286

کس کے لیے بنائیں گے پکوان عید کا

287

ساتھ تا عمر رہیں گے یہ کہا تھا تو نے

288

آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو

289

درمیاں دوری ہیں جتنی وہ مٹائیں جاناں

290

کیا بتاؤں کہ کیا ضروری ہے

291

حالت ایسی ہوئی ہماری ہے

292

دیدار یار یار کو کرنے نہیں دیا

293

شکایتوں کو بھلاؤ کہ عید آئی ہے

294

کبھی تو ساتھ میں یاروں کے یار! یار چلے

295

ہے یہ ارمان کے دیدار کو آؤں جاناں

296

یہی ہے فرض مجھ پہ میں کروں کوشش منانے کی

297

اس عشق و محبت سے گزر جاؤ گے تم بھی

298

تمہیں ہر دم منانے میں لگا ہوں

299

کس طرح سے بتلاؤں کہ کیا کیا ہے مرا دوست

300

ہمیں بھی راہوں میں تنہا ملا کرے کوئی

301

تام الفت کا مرا یہ سلسلہ ہو جائے گا

302

شمول کس کا ہے اب آپ کی دعاؤں میں ؟

303

یقین مانو اے یارو ! میں بے شراب رہا

304

وہ شخص میری آنکھوں کا تارا نہ ہو سکا

305

تم ایک بات سنو اس کو بے وفا نہ کہو

306

ہاتھ دینا نہ کسی کو بھی تھما میرے بعد

307

تہنیت نامہ جشن دستار فضیلت مولانا محمد اعظم رضا خان مرکزی بلگرامی

308

تہنیت نامہ جشن دستار فضیلت مولانا محمد مستوین رضا مرکزی

309

آئے ہیں آج وہ شاہ کون و مکاں مرحبا مرحبا

310

سر پہ دستار فضیلت سج گئی ساجد رضا

311

مچی ہے دھوم آیا جشن کیا تحقیق و افتا کا

312

صاحب حسن و وجاہت آمنہ کا لعل ہے

313

پھول سا کھلتاترا چہرہ جدھر جاۓگا

314

غریبوں میں آہ وفغاں دیکھتے ہیں

315

ظلم کی تیرگی دنیا سے مٹانے کے لئے

316

مفتی اعظم کے تقوی کی ضیا شیر بہار

317

عرس ہے آج احمد رضا خان کا مرحبا مرحبا

318

رضویت کے ہیں علمبردار تاج الاصفیا

319

تہنیت بموقع دستار فضیلت عزیز القدر مولانا آفرید رضا مرکزی سلمہ الباری

320

کیسے بتاؤں کیا ہے میں رتبہ حضور کا

321

فرش سے عرش بریں تک رحمت وانوار ہے

322

نعمت و رحمتِ یزدان رسول عربی

323

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

324

اے مدینے کے شہریار سلام

325

میرے اللّٰہ کے نگار سلام

326

یا رسول اللّٰہ یا خیر الانام

327

منقبت حضور بحر العلوم – گلشن علم کی بہار ہوئے

328

منقبت حضور امین شریعت -چھوڑ کر آپ سارا جہاں چل دیئے

329

اے نقیب اعلیٰ حضرت مصطفیٰ حیدر حسن

330

حق پسند و حق نوا و حق نما ملتا نہیں

331

دل نے کہا مجاہد ملت کو ڈھونڈیئے

332

مصطفیٰ کی ضیا شمع امجد علی

333

عرس امجد علی میں چلے آ یئے

334

کس کے غم میں ہائے تڑ پاتا ہے دل

335

حامی دین ہدیٰ تھے شاہ جیلانی میاں

336

زینت سجاده و بزم قضا ملتا نہیں

337

چل دئیے تم آنکھ میں اشکوں کا در یا چھوڑ کر

338

مفتی اعظم دین خیر الوریٰ

339

حضرت مسعود غازی اختر برج هدیٰ

340

خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا

341

پیروں کے آپ پیر ہیں یا غوث المدد

342

باغ تسلیم و رضا میں گل کھلاتے ہیں حسین

343

شجاعت ناز کرتی ہے جلالت ناز کرتی ہے

344

اے صبا لے جا مدینے کو پیام

345

قطعہ 3 جبین وہابی یہ دل کی سیاہی

346

قطعہ 2سویا نہیں میں رات بھر عشق حضور میں

347

قطعہ 1 الٰہی ! رحم کن بر حال زارم

348

تمہارے رخ کے جلووں سے منور ہوگیا عالم

349

سوز نہاں اشک رواں آہ و فغاں دیتے ہیں

350

نہیں جاتی کسی صورت پریشانی نہیں جاتی

351

تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے

352

پی کے جو مست ہو گیا بادۂ عشق مصطفیٰ

353

وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت

354

غیر اپنے ہوگئے جو ہمارے بدل گئے

355

ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجا دہل جائے گا

356

میری میت پہ یہ احباب کا ماتم کیا ہے

357

نت نئ ایک الجھن ہے

358

تخت زریں ہے نہ تاج شاہی ہے

359

در احمد پہ اب میری جبیں ہے

360

گر ہمیں ذوق طلب سا رہنما ملتا نہیں

361

عرش پر ہیں ان کی ہر سو جلوہ گستر ایڑیاں

362

اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال

363

نظر پہ کسی کی نظر ہو رہی ہے

364

شمیم زلف نبی لا صبا مدینے سے

365

فرشتے جس کے زائر ہیں مدینے میں وہ تربت ہے

366

ہمارے باغ ارماں میں بہار بے خزاں آئے

367

اپنے رندوں کی ضیافت کیجئے

368

مرکے جینے کا پاؤں مزہ خیر سے

369

فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے

370

تیرے دامنے کرم میں جسے نیند آ گئی ہے

371

شہنشاہ دو عالم کا کرم ہے

372

رہنمائی کے لئے ذوق طلب درکار ہے

373

مست مے الست ہے وہ بادشاہ وقت ہے

374

نہاں جس دل میں سرکار دو عالم کی محبت ہے

375

سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے

376

میر ی خلوت میں مزے انجمن آرائی کے

377

صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے

378

دور اے دل رہیں مدینے سے

379

صدر بزم کثرت یا رسول اللّٰہ

380

وہ چھائی گھٹا بادہ بار مدینہ

381

در جاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو

382

اپنے دَر پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو

383

لب جاں بخش کا اے جاں مجھے صدقہ دے دو

384

چاند سے ان کے چہرے پہ گیسوئے مشک فام دو

385

تمہارے در پہ جو میں باریاب ہو جاؤں

386

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں

387

بو الہوس سن سیم و زر کی بندگی اچھی نہیں

388

تیری چوکھٹ پہ جو سر اپنا جھکا جاتے ہیں

389

کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں

390

تلاطم ہے یہ کیسا آنسوؤں کا دیدۂ تر میں

391

آج کی رات ضیاؤں کی ہے بارات کی رات

392

جھکے نہ بار صد احساں سے کیوں بناۓ فلک

393

جب کبھی ہم نے غم جاناں کو بھلایا ہوگا

394

وہ بڑھتا سایہ رحمت چلا زلف معنبر کا

395

لب کوثر ہے میلا تشنہ کامان محبت کا

396

تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں

397

داغ فرقت طیبہ قلبِ مضمحل جاتا

398

وجہ نشاطِ زندگی راحتِ جاں تم ہی تو ہو

399

مصطفائے ذات یکتا آپ ہیں

400

نعت ِ رسول ﷺ

401

ابر کرم گیسوۓ محمّد*ﷺ*

402

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لئے

403

منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں

404

واقعاتِ رضویہ

405

کوئی مشکل مجھے سرکار اگر ہوتی ہے

406

مہک رہا ہے گلستانِ مفتی اعظم

407

خدا کے فضل کا دھارا مرے غریب نواز

408

ہوائے ستم ہے چلی غوث اعظم

409

رب کے محبوب کے دلدار ہیں غوث اعظم

410

کوئی جا کے اب بھی پوچھ لے کہتی ہے زمینِ کربلا

411

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – میرے خیال و خواب کا کعبہ حسین ہے

412

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – ہے جسے تم سے محبت اے حسین ابن علی

413

منقبت در شان امام حسین ۔راہ خدا میں بر سر پیکار ہیں حسین

414

رہ وفا میں کوئی راہبر نہیں آیا

415

منقبت در شان امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔جہاں سے ظلم مٹانے حسین آۓ ہیں

416

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – کرم کے پھول کھلانے حسین آئے ہیں

417

کرو روشن دیوار و در مرے سرکار آئے ہیں

418

خدا کے نور سے دل جگمگانے والے ہیں

419

کاش قسمت سے شرف میں نے یہ پایا ہوتا

420

جانِ قلب و جگر مدینہ ہے

421

دل ہے روشن مرا مدینے سے

422

جو جام ہمیں ساقی کوثر سے عطا ہو

423

ہوتی ہے سخاوت کی برسات مدینے میں

424

ان سے دعوائے محبت کو یوں زندہ رکھنا

425

ادراک سے ورا ہے سراپا حضور کا

426

حمد باری تعالیٰ ۔ بحکم شیخ الحدیث حضور مفتی صالح صاحب قبلہ – تو ہے خالق برایا تری بے عدد عطایا

427

نہ اس کی ابتدا نہ انتھا ہے

428

قرار چاہیے بیمار زندگی کے لئے

429

لکھو نعت نبی شام و سحر آہستہ آہستہ

430

جلوہ گاہِ مصطفیٰ صل علی کیا خوب ہے

431

سرکار آگئے مرے سرکار آگئے

432

سارا جہاں ہے روشن سرکار آرہے ہیں

433

درود کی محفلیں سجاؤ حضور تشریف لا رہے ہیں

434

غم کے مارو ! مسکراؤ آمد سرکار ہے

435

بہت ہی خوبصورت ہے نبی کا در مدینے میں

436

باغ فردوس کا آؤ چلو نقشہ دیکھیں

437

منقبتِ حضور شیرِ بہار

438

آپ پر ہے رب کی رحمت

439

دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا

440

تنہائی میں

441

بہارِ گلشنِ ایمان مفتئ اسلم

442

کیا کہوں دل صورتِ ظالم پہ کیوں قربان ہے

443

دل لگانا بری بلا ہے

444

سنو، سنو دلِ نجمیؔ میں جاگزیں تم ہو

445

دورِ وفا جہان سے کب کا گزر گیا

446

جب سے دل کو ملا رابطہ آپ کا

447

سستے ہوئے ہیں دہر میں سودے زبان کے

448

چھوڑ کر راہِ خدا حشر میں رسوا ہوگا

449

ہمارے بچے ادب سے کلام کرنے لگے

450

ہم ان کو دیکھ کے زار و قطار روئیں گے

451

جائیں کس سمت راستہ ہی نہیں

452

حسیں تو تھا ہی مگر تُو ذہین کتنا تھا

453

کوئی بات نہیں

454

عین شین قاف نہ کر

455

کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے

456

دردِ دل سے مجھے شفا دے دے

457

رخِ محبوبِ من مثلِ قمر ہے

458

تری گلی میں نہ آتے جاتے تو اچھا ہوتا

459

حال یہ میری مفلسی کا ہوا

460

خون کے آنسو رلاتا ہے مجھے یہ دردِ دل

461

تبسم ریز مثل گل لبوں سے

462

آ جاؤ محبت کا چلو سوگ منائیں

463

عشق ہے زہرِ ہلال

464

مرے یارو! بڑی دشواریاں ہیں

465

خوب آتا ہے تمہیں درد کا درماں کرنا

466

تری شوکت تری رفعت مرے مخدوم سمنانی

467

امن و راحت کی غزل گاتے ہیں گھر

468

منور عشق شہ سے قوم کے افکار کرتے ہیں

469

ہم ہیں تیار ستم گر کو ستانے کے لئے

470

ہو گیا جو دل سے شیدہ احمد مختار کا

471

سوائے آپ کے ہے کون میرا یا رسول اللہ

472

مدح رسول پاک میں لکھوں تو کیا لکھوں

473

دکھا دے يا خدا روضہ مجھے محبوبِ داور کا

474

رحمت کی گھٹاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں

475

فکر و خیالِ جلوۂ گلفام آگیا

476

چلے بادِ صبا طیبہ سے میرے آشیانے کو

477

صفحۂ دل پہ نقش ہے نام ابو الحسین کا

478

مرے حضور ﷺ کرم بے شمار کرتے ہیں

479

المدد اے سرورِ کون و مکاں ﷺ

480

سبطِ رسول ابن علی مرتضٰی حسن

481

یوں رندِ میکدہ کو ساقی بے قرار نہ کر

482

ایسا کوئی بھی بندۂ رب العُلیٰ نہیں

483

عشق محبوب ﷺ میں سرشار ہوا جاتا ہوں

484

میرے مرشد کا عرس آ گیا

485

گلشن کے عنادل یہی سب نغمہ سرا ہیں

486

نازشِ اہلِ سنن اختر رضا

487

خالقِ کل کی عطا قرآن ہے

488

افقِ فضل کے خاور وہ ہمارے اختر

489

حسین سبطِ پیمبر حسین ابنِ علی

490

عظیم الشان کتنا مرتبہ محبوب داور ﷺ کا

491

حرم و قبلہ و کعبہ یوں ہی طیبہ تیرا

492

رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری

493

خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری

494

ہیں عطائے‌خدا شاہ اختر رضا

495

آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ

496

لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت

497

تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء

498

ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک

499

رسول  پاک  کو  رب  نے  کیا  مختار  سو فیصد

500

راہ میں چھوڑ کے تو مُجھ کو اگر جائے گا

501

سیم و زر  لعل  و گہر سے  دل  لگی  اچھی نہیں

502

اہل  سنن  کے  دل کی  صدا  مصطفےٰ رضا

503

کروں شان   تیری  بیاں   اعلیٰ  حضرت

504

اُس دل پہ کفر و شرک کا پھر کیسے آئے داغ

505

حضور ﷺ دیکھیں نا

506

گُل عِذاروں کی نہ لالہ زار کی

507

العقد الفريد في حمد الرب المجيد

508

نعتِ نبیِ کونین ﷺ

509

آسان میری مشکل فرما شہ مدینہ

510

ان ﷺ کے کرم کی بارش

تلاش جاری ہے...