یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دفاع اہل سنت
جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے استحباب کا ثبوت
جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے تعلق سے سوال و جواب کاسلسلہ (قسط دوم)
سوال نمبر ۳:میلاد کے استحباب کو ثابت کرنے کے لئے اصولِ فقہ کی رو سے کس پائے کی دلیل کی ضرورت ہے؟
نوٹ : یہ سوال اس باب میں بہت اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ مفلوج العقل دیابنہ وہابیہ عوام تو عوام انکے مقتدا، عالم و مفتی کہلانے والوں کو اکثر دیکھا جاتا ہے کہ وہ جشن عید میلاد النبی ﷺ کے ثبوت میں قرآن و حدیث کی جزئی صراحت کا تقاضہ کرتے ہیں، عمومات و اطلاقات سے استنباط کو بھی قبول نہیں کرتے جبکہ احکام شرع میں یہ استدلال شائع و ذائع ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے کسی فرض اعتقادی کا دعوی کر لیا ہے، یہ حماقت ان کے علما کی علمی پسماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے
آگے ذکر کئے جانے والے سارے اقوال دیابنہ کے امام مطلق اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب بوادر النوادر ص ۱۷۷ میں ذکر کیا ہے لہذا ان سے صراحۃ مستفاد ہونے والے امور خود ان کی اپنی زبانوں کا اعتراف ہوگا
جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے استحباب کا ثبوت
مضمون نگار: Muhammad Shahzad Jaami
جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے تعلق سے سوال و جواب کاسلسلہ (قسط دوم)
سوال نمبر ۳:میلاد کے استحباب کو ثابت کرنے کے لئے اصولِ فقہ کی رو سے کس پائے کی دلیل کی ضرورت ہے؟
نوٹ : یہ سوال اس باب میں بہت اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ مفلوج العقل دیابنہ وہابیہ عوام تو عوام انکے مقتدا، عالم و مفتی کہلانے والوں کو اکثر دیکھا جاتا ہے کہ وہ جشن عید میلاد النبی ﷺ کے ثبوت میں قرآن و حدیث کی جزئی صراحت کا تقاضہ کرتے ہیں، عمومات و اطلاقات سے استنباط کو بھی قبول نہیں کرتے جبکہ احکام شرع میں یہ استدلال شائع و ذائع ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے کسی فرض اعتقادی کا دعوی کر لیا ہے، یہ حماقت ان کے علما کی علمی پسماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے
آگے ذکر کئے جانے والے سارے اقوال دیابنہ کے امام مطلق اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب بوادر النوادر ص ۱۷۷ میں ذکر کیا ہے لہذا ان سے صراحۃ مستفاد ہونے والے امور خود ان کی اپنی زبانوں کا اعتراف ہوگا
در المختار کی یہ عبارت اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب بوادر النوادر میں نقل کی ہے المستحب ما فعله النبي مرة و تركه أخرى و ما أحبه السلف
اس عبارت کا ترجمہ یہ ہے : مستحب وه حكم مشروع ہے جسے نبی کریم ﷺ نے کبھی کیا ہو اور کبھی چھوڑا ہو اور جسے اسلاف نے پسند کیا ہو الدر المختار في بحث مستحب الوضوء
اس نے در المختار سے یہ عبارت بھی نقل کی ہے:
و التلفظ عند الارادة بها مستحب هو المختار .........و قيل سنة يعني ما أحبه السلف أو سنة علماءنا اذ لم ينقل عن المصطفى ﷺ و لا الصحابة و لا التابعين
ترجمہ: اور ارادت صلاۃ کے وقت تلفظ مستحب ہے اور یہی پسندیدہ قول ہے ۔۔۔۔۔۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ تلفظ سنت ہے، مستحب یعنی کہ وہ جسے ہمارے علماء نے پسند فرمایا اور سنت یعنی ہمارے علماء کی سنت کیوں کہ یہ نہ مصطفی جان رحمت ﷺ سے منقول ہے نہ کسی صحابی سے نہ ہی کسی تابعی سے بلکہ اسے بدعت کہا گیا ہے
اشرف علی تھانوی نے بوادر النوادر میں صاحب حلیہ کا قول لکھا ہے: انه بدعة حسنة( بے شک یہ اچھی بدعت ہے )
اس عبارت کا ترجمہ یہ ہے : مستحب وه حكم مشروع ہے جسے نبی کریم ﷺ نے کبھی کیا ہو اور کبھی چھوڑا ہو اور جسے اسلاف نے پسند کیا ہو الدر المختار في بحث مستحب الوضوء
اس نے در المختار سے یہ عبارت بھی نقل کی ہے:
و التلفظ عند الارادة بها مستحب هو المختار .........و قيل سنة يعني ما أحبه السلف أو سنة علماءنا اذ لم ينقل عن المصطفى ﷺ و لا الصحابة و لا التابعين
ترجمہ: اور ارادت صلاۃ کے وقت تلفظ مستحب ہے اور یہی پسندیدہ قول ہے ۔۔۔۔۔۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ تلفظ سنت ہے، مستحب یعنی کہ وہ جسے ہمارے علماء نے پسند فرمایا اور سنت یعنی ہمارے علماء کی سنت کیوں کہ یہ نہ مصطفی جان رحمت ﷺ سے منقول ہے نہ کسی صحابی سے نہ ہی کسی تابعی سے بلکہ اسے بدعت کہا گیا ہے
اشرف علی تھانوی نے بوادر النوادر میں صاحب حلیہ کا قول لکھا ہے: انه بدعة حسنة( بے شک یہ اچھی بدعت ہے )
اتنے بیان سے یہ باتیں واضح ہوئیں :
۱۔ مستحب دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو مصطفی جان رحمت ﷺ سے منقول ہو ترک کے ساتھ اور ایک وہ جسے ہمارے اسلاف نے پسند کیا ہو، کتلفظ الفاظ النية عند الارادة بالصلاة
۲۔ وہ امر جو نہ مصطفی جان رحمت ﷺ سے منقول ہے نہ کسی صحابی سے نہ ہی کسی تابعی سے وہ بھی مستحب ہو سکتا ہے
٣۔ تمام بدعات شرع میں نا پسندیدہ نہیں بلکہ بدعات ایسی بھی ہیں جو شرع میں پسندیدہ ہیں اور اسلاف نے اسے قبول کیا ہے ۔
٤ ) ثبوت استحباب کے لئے دلیل کے طور پر اتنی بات کافی ہے کہ علماء کرام و اسلاف عظام نے اس امر کو پسند فرمایا اور اچھا سمجھا ہے ۔
اور اسکی تائید حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی کرتا ہے ما راہ المؤمنون حسنا فهو عند اللہ حسن کہ مومنین جس امر کو اچھا سمجھے وہ عند اللہ بھی اچھا ہوتا ہے"
۱۔ مستحب دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو مصطفی جان رحمت ﷺ سے منقول ہو ترک کے ساتھ اور ایک وہ جسے ہمارے اسلاف نے پسند کیا ہو، کتلفظ الفاظ النية عند الارادة بالصلاة
۲۔ وہ امر جو نہ مصطفی جان رحمت ﷺ سے منقول ہے نہ کسی صحابی سے نہ ہی کسی تابعی سے وہ بھی مستحب ہو سکتا ہے
٣۔ تمام بدعات شرع میں نا پسندیدہ نہیں بلکہ بدعات ایسی بھی ہیں جو شرع میں پسندیدہ ہیں اور اسلاف نے اسے قبول کیا ہے ۔
٤ ) ثبوت استحباب کے لئے دلیل کے طور پر اتنی بات کافی ہے کہ علماء کرام و اسلاف عظام نے اس امر کو پسند فرمایا اور اچھا سمجھا ہے ۔
اور اسکی تائید حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی کرتا ہے ما راہ المؤمنون حسنا فهو عند اللہ حسن کہ مومنین جس امر کو اچھا سمجھے وہ عند اللہ بھی اچھا ہوتا ہے"
یہ سارے امور خود انکی زبانوں کا اعتراف ہے کیوں کہ انکے پیشوا اشرف علی تھانوی نے خود ان اقوال کو نقل کیا ہے۔لہذا وہ خود اپنی زبان اس بات کا مقر ہوئے کہ ثبوت استحباب جس طرح قرآن و حدیث کے امر استحبابی اور حضور ﷺ کے اعمال سے ہوتا ہے یوں ہی اسلاف کے پسند کرنے سے بھی ہوتا ہے۔
سوال نمبر ۴:جشنِ عید میلاد النبی ﷺ منانا مستحب اور باعثِ اجر و ثواب ہے، اس پر کیا دلیل ہے ؟
ہمارا دعوی میلاد النبی ﷺ کے اسحباب کا ہے لہذا اسکے ثبوت کے لئے دلیل میں اتنی بات کافی ہے کہ علماء معتمدین نے اسے پسند کیا ہے، علماء کے استحسان کے ثابت ہونے کے بعد منکرین کے پاس قرآن و حدیث سے مطالبۂ دلیل کا کوئی حق نہیں رہ جاتا لہذا علماء و فقہاء، مفسرین و محدثین کے اقوال ملاحظہ فرمائیں :
چھٹی صدی ہجری کے محدث
1) مشہور محدث،مؤرخ، فقیہ امام عبد الرحمن بن جوزی(510- 597 هـ/ 1116- 1201 م) فرماتے ہیں :
وَجَعَلَ لِمَنْ فَرِحَ بِمَوْلِدِهِ حِجَاباً مِنَ النَّارِ وَسِتْراً. وَمَنْ أَنْفَقَ فِي مَوْلِدِهِ دِرْهَماً كَانَ الْمُصْطَفَى ﷺ لَهُ شَافِعاً وَمُشَفَّعاً وَأَخْلَفَ اللهُ عَلَيْهِ بِكُلِّ دِرْهَمٍ عَشْراً، فَيَا بُشْرَى لَكُمْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَقَدْ نِلْتُمْ خَيْراً كَثِيراً فِي الدُّنْيَا وَفِي الْأُخْرَى.
ترجمہ: جو کوئی مصطفی جان رحمت ﷺ کی ولادت کی خوشی منائے تو اسکی وہ خوشی جہنم کی آگ سے روکنے والا پردہ ہو جائیگی اور جو کوئی انکی ولادت کی خوشی میں ایک درہم خرچ کرے تو مصطفی جان رحمت ﷺ انکی شفاعت فرمائیں گے اور یقینا آپ ﷺ کی شفاعت مقبول ہے اور اللہ تعالی اسے ہر ایک درہم کے بدلے دس درہم عطا فرمائے گا تو اے مصطفی جان رحمت ﷺ کی امت تمہارے لئے بڑی خوشخبری ہے کہ تمہیں دنیا و آخرت میں خیر کثیر دیا گیا
(مولد العروس ص 67_66 المطبوع مع تحقيق الدكتور عبد الحفيظ البقالي)
وَجَعَلَ لِمَنْ فَرِحَ بِمَوْلِدِهِ حِجَاباً مِنَ النَّارِ وَسِتْراً. وَمَنْ أَنْفَقَ فِي مَوْلِدِهِ دِرْهَماً كَانَ الْمُصْطَفَى ﷺ لَهُ شَافِعاً وَمُشَفَّعاً وَأَخْلَفَ اللهُ عَلَيْهِ بِكُلِّ دِرْهَمٍ عَشْراً، فَيَا بُشْرَى لَكُمْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَقَدْ نِلْتُمْ خَيْراً كَثِيراً فِي الدُّنْيَا وَفِي الْأُخْرَى.
ترجمہ: جو کوئی مصطفی جان رحمت ﷺ کی ولادت کی خوشی منائے تو اسکی وہ خوشی جہنم کی آگ سے روکنے والا پردہ ہو جائیگی اور جو کوئی انکی ولادت کی خوشی میں ایک درہم خرچ کرے تو مصطفی جان رحمت ﷺ انکی شفاعت فرمائیں گے اور یقینا آپ ﷺ کی شفاعت مقبول ہے اور اللہ تعالی اسے ہر ایک درہم کے بدلے دس درہم عطا فرمائے گا تو اے مصطفی جان رحمت ﷺ کی امت تمہارے لئے بڑی خوشخبری ہے کہ تمہیں دنیا و آخرت میں خیر کثیر دیا گیا
(مولد العروس ص 67_66 المطبوع مع تحقيق الدكتور عبد الحفيظ البقالي)
ساتویں صدی ہجری کے محدث
2) محدث ابو شامہ (599 - 665 هـ / 1202 - 1267 م) جو امام نووی کے شیخ ہیں یوں فرمایا :
ومن احسن ما ابتدع فى زماننا ما یفعل كل عام فى الیوم الموافق لیوم مولده صلى اللّٰه عليه وسلم من الصدقات والمعروف واظھار الزینة والسرور فان ذلك مع مافیه من الاحسان للفقراء مشعر بمحبة النبى صلى اللّٰه عليه وسلم وتعظیمه فى قلب فاعل ذلك وشکر اللّٰه على مامنّ به من ایجاد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم الذى ارسله رحمة للعالمین.
ومن احسن ما ابتدع فى زماننا ما یفعل كل عام فى الیوم الموافق لیوم مولده صلى اللّٰه عليه وسلم من الصدقات والمعروف واظھار الزینة والسرور فان ذلك مع مافیه من الاحسان للفقراء مشعر بمحبة النبى صلى اللّٰه عليه وسلم وتعظیمه فى قلب فاعل ذلك وشکر اللّٰه على مامنّ به من ایجاد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم الذى ارسله رحمة للعالمین.
ترجمہ : ہمارے زمانے میں جو بہترین نیا کام کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ لوگ ہر سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کے دن صدقات و خیرات کرتے، سجاوٹ اور خوشی کا بھرپور اظہار کرتے کیوں کہ اس میں کئی فائدے ہیں۔ فقراء و مساکین کے ساتھ احسان و مروت کا برتاؤ ہوتا ہے۔ نیز جو شخص یہ کام کرتا ہے، اس کے دل میں محبوبِ خدا کی محبت و عظمت کا جذبہ ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ کریم نے اپنے محبوب کو پیدا فرما کر اور رحمت اللعالمین بنا کر مبعوث فرمایا۔ یہ اس کا اپنے بندوں پر بہت بڑا احسان ہے، جس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اس مسرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
( حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سید المرسلینﷺ، مطبوعۃ:دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2005م، ص:174)
رسالہ میلاد اکابر امت کی نظر میں مجھے یہ حوالہ (السیرۃ الحلبیہ جلد اول، صفحہ ۸۰ از علامہ علی بن برہان الدین حلبی) بھی ملا لیکن یہ مطبوع نہیں مل سکا اور دوسرے میں تلاش و جستجو مشکل تھا اس لئے تصحیح نقل نہ ہو سکا
( حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سید المرسلینﷺ، مطبوعۃ:دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2005م، ص:174)
رسالہ میلاد اکابر امت کی نظر میں مجھے یہ حوالہ (السیرۃ الحلبیہ جلد اول، صفحہ ۸۰ از علامہ علی بن برہان الدین حلبی) بھی ملا لیکن یہ مطبوع نہیں مل سکا اور دوسرے میں تلاش و جستجو مشکل تھا اس لئے تصحیح نقل نہ ہو سکا
3) امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے حسن المقصد فی عمل المولد میں لکھا ہے :
قال الكمال الأدفوي في الطالع السعيد حكى لنا صاحبنا العدل ناصر الدين محمود بن العماد ان أبا الطيب محمد بن ابراهيم السبتي المالكي نزيل قوص أحد العلماء العاملين كان يجوز بالمكتب في اليوم الذي ولد فيه النبي ﷺ فيقول يا فقيه هذا يوم سرور اصرف الصبيان فيصرفنا وهذا منه دليل على تقريره وعدم إنكاره وهذا الرجل كان فقيهاً مالكياً مفنناً في العلوم متورعاً أخذ عنه أبو حيان غيره ومات سنة خمس وتسعين وستمائة
ترجمہ : کمال ادفوی نے اپنی کتاب الطالع السعيد میں کہا ہے: ہمارے معتبر ساتھی ناصر الدين محمود بن العماد( 595 هـ 680ھ) نے ہمیں بتایا کہ قوص (شہر) میں رہنے والے عامل متقی علماء میں سے ایک، ابو الطیب محمد بن ابراہیم السبتی مالکی، نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کے دن مکتب (مدرسے) کے پاس سے گزرتے تھے اور (استاد سے) فرماتے تھے: اے فقیہ (استاد)! آج خوشی کا دن ہے، بچوں کو چھٹی دے دو۔ چنانچہ وہ ہمیں چھٹی دے دیا کرتے تھے۔
(امام جلال الدين سيوطي فرماتے ہیں) اور ان کا یہ عمل میلاد پر خوشی کا اقرار کرنے اور اس کا انکار نہ کرنے کی دلیل ہے۔ اور یہ شخص ابو الطیب ایک مالکی فقیہ تھے، مختلف علوم کے ماہر اور پرہیزگار انسان تھے، ان سے ابو حیان اور دیگر لوگوں نے علم حاصل کیا، اور انہوں نے سنہ 695 ہجری میں وفات پائی۔(حسن المقصد فی عمل المولد __ص: 66____مطبوعہ: بیروت)
قال الكمال الأدفوي في الطالع السعيد حكى لنا صاحبنا العدل ناصر الدين محمود بن العماد ان أبا الطيب محمد بن ابراهيم السبتي المالكي نزيل قوص أحد العلماء العاملين كان يجوز بالمكتب في اليوم الذي ولد فيه النبي ﷺ فيقول يا فقيه هذا يوم سرور اصرف الصبيان فيصرفنا وهذا منه دليل على تقريره وعدم إنكاره وهذا الرجل كان فقيهاً مالكياً مفنناً في العلوم متورعاً أخذ عنه أبو حيان غيره ومات سنة خمس وتسعين وستمائة
ترجمہ : کمال ادفوی نے اپنی کتاب الطالع السعيد میں کہا ہے: ہمارے معتبر ساتھی ناصر الدين محمود بن العماد( 595 هـ 680ھ) نے ہمیں بتایا کہ قوص (شہر) میں رہنے والے عامل متقی علماء میں سے ایک، ابو الطیب محمد بن ابراہیم السبتی مالکی، نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کے دن مکتب (مدرسے) کے پاس سے گزرتے تھے اور (استاد سے) فرماتے تھے: اے فقیہ (استاد)! آج خوشی کا دن ہے، بچوں کو چھٹی دے دو۔ چنانچہ وہ ہمیں چھٹی دے دیا کرتے تھے۔
(امام جلال الدين سيوطي فرماتے ہیں) اور ان کا یہ عمل میلاد پر خوشی کا اقرار کرنے اور اس کا انکار نہ کرنے کی دلیل ہے۔ اور یہ شخص ابو الطیب ایک مالکی فقیہ تھے، مختلف علوم کے ماہر اور پرہیزگار انسان تھے، ان سے ابو حیان اور دیگر لوگوں نے علم حاصل کیا، اور انہوں نے سنہ 695 ہجری میں وفات پائی۔(حسن المقصد فی عمل المولد __ص: 66____مطبوعہ: بیروت)
4) امام جلال الدين سيوطى رحمه الله نے حسن المقصد فی عمل المولد میں حافظ شمس الدین المعروف بابن الجزری (متوفی: 660 ھ ) کے تعلق سے بیان فرمایا ہے :
ثم رأيت إمام القراء الحافظ شمس الدين ابن الجزري قال في كتابه المسمى عرف التعريف بالمولد الشريف ما نصه:
رؤي أبو لهب بعد موته في النوم فقيل له ما حالك فقال في النار إلا انه خفف عني كل ليلة اثنين فامص من بين اصبعي هاتين ماء بقدر هذا وأشار برأس أصبعيه وان ذلك باعتاقي لثويبة عندما بشرتني بولادة النبي ﷺ وبإرضاعها له فإذا كان أبو لهب الكافر الذي نزل القرآن بذمه جوزي في النار بفرحه ليلة مولد النبي ﷺ به فما حال المسلم الموحد من أمة النبي ﷺ بنشره مولده وبذل ما تصل إليه قدرته في محبته ﷺ لعمري إنما يكون جزاؤه من الله الكريم ان يدخله بفضله جنات النعيم
ثم رأيت إمام القراء الحافظ شمس الدين ابن الجزري قال في كتابه المسمى عرف التعريف بالمولد الشريف ما نصه:
رؤي أبو لهب بعد موته في النوم فقيل له ما حالك فقال في النار إلا انه خفف عني كل ليلة اثنين فامص من بين اصبعي هاتين ماء بقدر هذا وأشار برأس أصبعيه وان ذلك باعتاقي لثويبة عندما بشرتني بولادة النبي ﷺ وبإرضاعها له فإذا كان أبو لهب الكافر الذي نزل القرآن بذمه جوزي في النار بفرحه ليلة مولد النبي ﷺ به فما حال المسلم الموحد من أمة النبي ﷺ بنشره مولده وبذل ما تصل إليه قدرته في محبته ﷺ لعمري إنما يكون جزاؤه من الله الكريم ان يدخله بفضله جنات النعيم
ترجمہ : پھر میں نے دیکھا کہ امام القراء حافظ شمس الدین بن الجزری نے اپنی کتاب، جس کا نام 'عرف التعريف بالمولد الشريف' ہے، میں کہا ہے، جس کی عبارت یہ ہے:
ابو لہب کو اس کی موت کے بعد خواب میں دیکھا گیا، تو اس سے پوچھا گیا: 'تمہارا کیا حال ہے؟' اس نے کہا: میں آگ میں ہوں، سوائے اس کے کہ ہر پیر دوشنبے کی رات مجھ پر عذاب میں تخفیف کمی کر دی جاتی ہے، اور میں اپنی ان دو انگلیوں کے درمیان سے اتنی مقدار میں پانی چوس لیتا ہوں'—اور اس نے اپنی دونوں انگلیوں کے پوروں سے اشارہ کیا۔—'اور یہ اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو اس وقت آزاد کر دیا تھا جب اس نے مجھے نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشخبری دی تھی اور آپ ﷺ کو دودھ پلایا تھا۔'
پس جب ابو لہب جیسے کافر کا، جس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا، نبی کریم ﷺ کی ولادت کی رات خوشی منانے کی وجہ سے آگ میں یہ صلہ دیا جاتا ہے، تو نبی کریم ﷺ کی امت کے اس موحد مسلمان کا کیا حال ہوگا جو آپ ﷺ کی ولادت کے ذکر کو پھیلاتا ہے اور آپ ﷺ کی محبت میں اپنی استطاعت کے مطابق مال و جان خرچ کرتا ہے؟ میری عمر کی قسم! کریم اللہ کی طرف سے اس کا بدلہ یہی ہوگا کہ وہ اسے اپنے فضل سے نعمتوں والی جنتوں جنات النعیم میں داخل فرمائے گا۔"(حسن المقصد في عمل المولد___. ص: ٦٥___ مطبوعه: دار الكتب العلمية، بيروت )
ابو لہب کو اس کی موت کے بعد خواب میں دیکھا گیا، تو اس سے پوچھا گیا: 'تمہارا کیا حال ہے؟' اس نے کہا: میں آگ میں ہوں، سوائے اس کے کہ ہر پیر دوشنبے کی رات مجھ پر عذاب میں تخفیف کمی کر دی جاتی ہے، اور میں اپنی ان دو انگلیوں کے درمیان سے اتنی مقدار میں پانی چوس لیتا ہوں'—اور اس نے اپنی دونوں انگلیوں کے پوروں سے اشارہ کیا۔—'اور یہ اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو اس وقت آزاد کر دیا تھا جب اس نے مجھے نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشخبری دی تھی اور آپ ﷺ کو دودھ پلایا تھا۔'
پس جب ابو لہب جیسے کافر کا، جس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا، نبی کریم ﷺ کی ولادت کی رات خوشی منانے کی وجہ سے آگ میں یہ صلہ دیا جاتا ہے، تو نبی کریم ﷺ کی امت کے اس موحد مسلمان کا کیا حال ہوگا جو آپ ﷺ کی ولادت کے ذکر کو پھیلاتا ہے اور آپ ﷺ کی محبت میں اپنی استطاعت کے مطابق مال و جان خرچ کرتا ہے؟ میری عمر کی قسم! کریم اللہ کی طرف سے اس کا بدلہ یہی ہوگا کہ وہ اسے اپنے فضل سے نعمتوں والی جنتوں جنات النعیم میں داخل فرمائے گا۔"(حسن المقصد في عمل المولد___. ص: ٦٥___ مطبوعه: دار الكتب العلمية، بيروت )
آٹھویں صدی ہجری کے محدث
5) مشہور عالم دین، شیخ الاسلام و المسلمين،امیر المؤمنین فی الحدیث، حافظ الحدیث علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (شعبان773- ذو الحجة852 هـ/ 1371- 1449م)فرماتے ہیں :
المولد بدعة لم تنقل عن أحد من السلف الصالح من القرون الثلاثة ولکنھا مع ذلك قد اشتملت على محاسن وضدّها فمن تحرّى فى عمله المحاسن وتجنّب ضدّها كان بدعة حسنة ومن لا فلا قال: وقد ظهر لى تخریجها على أصل ثابت، وهو ما ثبت فى الصحیحین من أن رسول اللّٰه قدم المدینة فوجد الیھود یصومون عاشوراء فسألهم فقالوا: هذا یومٌ أغرق اللّٰه فیه فرعون وأنجى فیه موسى فنحن نصومه شکرا للّٰه تعالى فقال: أنا أحق بموسى منکم. فصامه وأمر بصیامه۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: الحافظ (ابن حجر عسقلانی) نے لکھا ہے کہ عمل میلاد کی اصل بدعت ہے۔ قرون ثلاثہ کے کسی فرد سے یہ منقول نہیں ہے لیکن یہ محاسن اور ان کی ضد پر مشتمل ہے۔ جو یہ عمل محاسن کے لیے کرتا ہے،ان کی ضد سے بچتا ہے، تو یہ بدعت حسنہ ہے ورنہ نہیں۔ لیکن میرے نزدیک اس کی اصل ثابت ہے جو صحیحین میں ہے کہ جب حضور مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے جب آپ ﷺ نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے عرض کی کہ اس روز رب تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی۔ ہم رب تعالیٰ جل جلالہ کا شکر ادا کرتے ہوئے، روزہ رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا :میں تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کا حقدار ہوں۔ آپﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا۔۔۔۔۔۔
نویں صدی ہجری کے محدث
6) مجدد امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ سے میلاد النبیﷺ کے تعلق سے سوال ہوا تو آپ نے حسن المقصد فی عمل المولد ایک رسالہ لکھ دیا کچھ عبارتیں ملاحظہ فرمائیں : عندي : أن أصل عمل المولد الذي هو اجتماع الناس، وقراءة ما تيسر من القرآن، ورواية الأخبار الواردة في مبدأ أمر النبي ﷺ ، وما وقع في مولده من الآيات، ثم يمد لهم سماطاً يأكلونه، وينصرفون من غير زيادة على ذلك من البدع الحسنة التي يثاب عليها صاحبها؛ لما فيه من تعظيم قدر النبي ﷺ ، وإظهار الفرح والاستبشار بمولده [ ﷺ ]الشريف
ترجمہ: میرے نزدیک میلاد النبی ﷺ کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ لوگ اکٹھے ہو کر بقدرِ سہولت تلاوتِ قرآن کرتے اور حضور نبی کریم ﷺ کی ابتدائی زندگی کی حالتوں اور وقت پیدائش ظاہر ہونے والی عظیم نشانیوں پر مشتمل روایات بیان کرتے ہیں پھر اُن کے لیے دستر خوان بچھایا جاتا ہے اور لوگ کھانا کھا کر مزید کچھ کیے بغیر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ تو یہ بدعتِ حسنہ میں سے ہے، انکے کرنے والوں کو اس پر ثواب دیا جاتا ہے کہ اس میں حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم و توقیر اور انکی میلاد شریف پر خوشی و مسرت کا اظہار ہے
(حسن المقصد في عمل المولد، ابتدائے جواب)
ترجمہ: میرے نزدیک میلاد النبی ﷺ کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ لوگ اکٹھے ہو کر بقدرِ سہولت تلاوتِ قرآن کرتے اور حضور نبی کریم ﷺ کی ابتدائی زندگی کی حالتوں اور وقت پیدائش ظاہر ہونے والی عظیم نشانیوں پر مشتمل روایات بیان کرتے ہیں پھر اُن کے لیے دستر خوان بچھایا جاتا ہے اور لوگ کھانا کھا کر مزید کچھ کیے بغیر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ تو یہ بدعتِ حسنہ میں سے ہے، انکے کرنے والوں کو اس پر ثواب دیا جاتا ہے کہ اس میں حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم و توقیر اور انکی میلاد شریف پر خوشی و مسرت کا اظہار ہے
(حسن المقصد في عمل المولد، ابتدائے جواب)
7) مشہور فقیہ محدث مفسر مؤرخ امام احمد بن محمد قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ولا زال أهل الإسلام يحتفلون بشهر مولده عليه السلام، ويعملون الولائم، ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات، ويظهرون السرور، ويزيدون في المبرات. ويعتنون بقراءة مولده الكريم، ويظهر عليهم من بركاته كل فضل عميم ^{(١)}.
ومما جرب من خواصه أنه أمان في ذلك العام، وبشرى عاجلة بنيل البغية والمرام، فرحم الله امرءا اتخذ ليالي شهر مولده المبارك أعيادا، ليكون أشد علة على من في قلبه مرض وأعيا داء.
ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی محفلیں منعقد کرتے چلے آرہے ہیں۔ اور خوشی کے ساتھ کھانا پکاتے اور دعوتیں کرتے، راتوں میں قسم قسم کے صدقے اور خیرات بانٹتے، خوشی کا اظہار کرتے، نیک کاموں میں حصہ لیتے اور آپ کا میلاد شریف پڑھنے کا خاص انتظام کرتے آ رہے ہیں۔ چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضلِ عمیم اور برکتوں کا ظہور ہوتا ہے اور میلاد شریف کے خواص میں آزمایا گیا ہے کہ جس سال میلاد پڑھا جاتا ہے، وہ سال مسلمانوں کے لیے حفظ و امان کا سال ہوتا ہے۔ میلاد کرنے سے دلی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحمتیں نازل کرے، جس نے ولادت کی مبارک راتوں کو خوشی کی عیدیں بنالیا کہ یہ میلاد کی عیدیں سخت مصیبت ہو جائیں اس پر جس کے دل میں مرض و عناد ہے۔ ۔ (مواہب اللدنیہ ص ا٤٨ مطبوعہ المكتب الاسلامی تحت عنوان الاحتفال بالمولد)
ولا زال أهل الإسلام يحتفلون بشهر مولده عليه السلام، ويعملون الولائم، ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات، ويظهرون السرور، ويزيدون في المبرات. ويعتنون بقراءة مولده الكريم، ويظهر عليهم من بركاته كل فضل عميم ^{(١)}.
ومما جرب من خواصه أنه أمان في ذلك العام، وبشرى عاجلة بنيل البغية والمرام، فرحم الله امرءا اتخذ ليالي شهر مولده المبارك أعيادا، ليكون أشد علة على من في قلبه مرض وأعيا داء.
ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی محفلیں منعقد کرتے چلے آرہے ہیں۔ اور خوشی کے ساتھ کھانا پکاتے اور دعوتیں کرتے، راتوں میں قسم قسم کے صدقے اور خیرات بانٹتے، خوشی کا اظہار کرتے، نیک کاموں میں حصہ لیتے اور آپ کا میلاد شریف پڑھنے کا خاص انتظام کرتے آ رہے ہیں۔ چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضلِ عمیم اور برکتوں کا ظہور ہوتا ہے اور میلاد شریف کے خواص میں آزمایا گیا ہے کہ جس سال میلاد پڑھا جاتا ہے، وہ سال مسلمانوں کے لیے حفظ و امان کا سال ہوتا ہے۔ میلاد کرنے سے دلی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحمتیں نازل کرے، جس نے ولادت کی مبارک راتوں کو خوشی کی عیدیں بنالیا کہ یہ میلاد کی عیدیں سخت مصیبت ہو جائیں اس پر جس کے دل میں مرض و عناد ہے۔ ۔ (مواہب اللدنیہ ص ا٤٨ مطبوعہ المكتب الاسلامی تحت عنوان الاحتفال بالمولد)
8) امام شمس الدین سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لم يفعله احد من القرون الثلاثة وانما حدث بعد ثم لا زال اهل الاسلام من سائر الاقطار والمدن الكبار يعملون المولد ويتصدقون فى لياليه بانواع الصدقات ويعتنون بقرآءة مولده الكريم ويظهر من بركاته عليهم كل فضل عظيم قال ابن الجوزى من خواصه انه امان فى ذلك العام وبشرى عاجلة بنيل البغية والمرام واول من احدثه من الملوك صاحب اربل وصنف له ابن دخية رحمه الله كتابا فى المولد سماه التنوير بمولد البشير النذير فأجازه بألف دينار وقد استخرج له الحافظ ابن حجر اصلا من السنة وكذا الحافظ السيوطى وردا على الفاكهانى المالكى فى قوله ان عمل المولد بدعة مذمومة كما فى انسان العيون
ترجمہ: میلاد شریف قرون ثلثہ میں کسی نے نہ کیا بعد میں ایجاد ہوا پھر ہر طرف کے اور ہر شہر کے مسلمان ہمیشہ مولود شریف کرتے رہے اور کرتے ہیں اور طرح طرح کے صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور حضور علیہ السلام کے میلاد پڑھنے کا بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مجلس پاک کی برکتوں سے ان پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہوتا ہے امام ابن جوزی فرماتے ہیں کہ میلاد شریف کی تاثیر یہ ہے کہ سال بھر اس کی برکت سے امن رہتی ہے اور اس میں مرادیں پوری ہونے کی خوشخبری ہے جس بادشاہ نے پہلے اس کو ایجاد کیا وہ شاہ اربل ہے اور ابن دحیہ نے اس کے لئے میلاد شریف کی ایک کتاب لکھی جس پر بادشاہ نے اس کو ہزار اشرفیاں نذر کیں اور حافظ ابن حجر اور حافظ سیوطی نے اس کی اصل سنت سے ثابت کی ہے اور ان دونوں نے علامہ فاکہانی مالکی کے اس قول کی تردیدی کی کہ میلاد بدعت سیئہ ہے۔ (تفسیر روح البیان___آیت:۲۹__تحت : محمد رسول اللہ )
9) ابن ناصر الدین دمشقي(متوفی: 842 _ھ) اپنی کتاب جامع الآثار فی السیر و مولد المختار میں فرماتے ہیں :
لم يفعله احد من القرون الثلاثة وانما حدث بعد ثم لا زال اهل الاسلام من سائر الاقطار والمدن الكبار يعملون المولد ويتصدقون فى لياليه بانواع الصدقات ويعتنون بقرآءة مولده الكريم ويظهر من بركاته عليهم كل فضل عظيم قال ابن الجوزى من خواصه انه امان فى ذلك العام وبشرى عاجلة بنيل البغية والمرام واول من احدثه من الملوك صاحب اربل وصنف له ابن دخية رحمه الله كتابا فى المولد سماه التنوير بمولد البشير النذير فأجازه بألف دينار وقد استخرج له الحافظ ابن حجر اصلا من السنة وكذا الحافظ السيوطى وردا على الفاكهانى المالكى فى قوله ان عمل المولد بدعة مذمومة كما فى انسان العيون
ترجمہ: میلاد شریف قرون ثلثہ میں کسی نے نہ کیا بعد میں ایجاد ہوا پھر ہر طرف کے اور ہر شہر کے مسلمان ہمیشہ مولود شریف کرتے رہے اور کرتے ہیں اور طرح طرح کے صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور حضور علیہ السلام کے میلاد پڑھنے کا بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مجلس پاک کی برکتوں سے ان پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہوتا ہے امام ابن جوزی فرماتے ہیں کہ میلاد شریف کی تاثیر یہ ہے کہ سال بھر اس کی برکت سے امن رہتی ہے اور اس میں مرادیں پوری ہونے کی خوشخبری ہے جس بادشاہ نے پہلے اس کو ایجاد کیا وہ شاہ اربل ہے اور ابن دحیہ نے اس کے لئے میلاد شریف کی ایک کتاب لکھی جس پر بادشاہ نے اس کو ہزار اشرفیاں نذر کیں اور حافظ ابن حجر اور حافظ سیوطی نے اس کی اصل سنت سے ثابت کی ہے اور ان دونوں نے علامہ فاکہانی مالکی کے اس قول کی تردیدی کی کہ میلاد بدعت سیئہ ہے۔ (تفسیر روح البیان___آیت:۲۹__تحت : محمد رسول اللہ )
9) ابن ناصر الدین دمشقي(متوفی: 842 _ھ) اپنی کتاب جامع الآثار فی السیر و مولد المختار میں فرماتے ہیں :
امابعد : فإن قلوب المؤمنين وأفئدة المتقين وأرواح المحبين تحيا عند نَشْرِ الأحاديث النبوية، وتنير بسماع السيرة المحمدية، وتتشوق إلىٰ وصف أخلاق نبينا ﷺ الشريفة، وتتشوف إلىٰ نعت أوصافه الجليلة المُنِيفة ، وتتشرَّف ببثِّ آدابه الجليلة اللطيفة، وترتاح في كل عام إلىٰ سماع حديث مولده عليه أفضل الصلاة والسلام۔
وقد صار ذلك [لهم] بدعة حسنة يهيمون بها في كل سنة، ويُظهرون لذلك الفرح والسرور في شهر ربيع الأول دون بقية الشهور وذلك بـ (مكة) و(المدينة) و(مصر) و(الشام) وغيرها في بلاد الإسلام، لكن الناس متفاوتون في عمل ذلك، ومنهم مَنْ يسلك فيه أهدى المسالك، ومنهم من يهلك فيمن هو هالك، ولن تجد لسُنَّةِ الله تبديلاً ولا تحويلاً، وكلٌّ يعمل علىٰ شاكلته، فربكم أعلم بِمَنْ هو أهدىٰ سبيلاً.
وأوَّل من أَطْلَعَ لهم هٰذا الفعل الأسعد وفاز منه - إن شاء الله - بالأجر السَّرْمَد : الملك المظفر أبو سعيد كُوكْبُرِي ابن الملك عليِّ بن بُكْتِكِين بن محمد ، فإنه أول ملك في العرب والعجم عمل وليمةً لمولد رسول الله ﷺ / واحتفاله [بذلك] في كل مجمع، وما كان فيه يُصْنع لا يحاط به
وقد صار ذلك [لهم] بدعة حسنة يهيمون بها في كل سنة، ويُظهرون لذلك الفرح والسرور في شهر ربيع الأول دون بقية الشهور وذلك بـ (مكة) و(المدينة) و(مصر) و(الشام) وغيرها في بلاد الإسلام، لكن الناس متفاوتون في عمل ذلك، ومنهم مَنْ يسلك فيه أهدى المسالك، ومنهم من يهلك فيمن هو هالك، ولن تجد لسُنَّةِ الله تبديلاً ولا تحويلاً، وكلٌّ يعمل علىٰ شاكلته، فربكم أعلم بِمَنْ هو أهدىٰ سبيلاً.
وأوَّل من أَطْلَعَ لهم هٰذا الفعل الأسعد وفاز منه - إن شاء الله - بالأجر السَّرْمَد : الملك المظفر أبو سعيد كُوكْبُرِي ابن الملك عليِّ بن بُكْتِكِين بن محمد ، فإنه أول ملك في العرب والعجم عمل وليمةً لمولد رسول الله ﷺ / واحتفاله [بذلك] في كل مجمع، وما كان فيه يُصْنع لا يحاط به
ترجمہ : حمد و صلاۃ کے بعد : حمد و صلوٰۃ کے بعد! مومنوں کے دل، پرہیزگاروں کے دل اور محبت کرنے والوں کی روحیں احادیثِ نبویہ کی اشاعت سے زندہ ہوتی ہیں، اور سیرتِ محمدی ﷺ کے سننے سے روشن ہوتی ہیں۔ وہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ شریفہ کے بیان کی طرف مشتاق ہوتی ہیں، اور آپ ﷺ کے بلند و بالا اور جلیل القدر اوصاف کی تعریف کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ وہ آپ ﷺ کے لطیف اور عظیم الشان آداب کو پھیلانے سے شرف حاصل کرتی ہیں، اور ہر سال آپ علیہ أفضل الصلاة والسلام کی ولادتِ با سعادت کے احوال (حدیثِ مولد) سننے سے راحت و سکون پاتی ہیں۔
اور یہ عمل (میلاد منانا) ان کے لیے ایک ایسی بدعتِ حسنہ (اچھا طریقہ) بن چکا ہے جس کے وہ ہر سال گرویدہ ہوتے ہیں، اور وہ باقی مہینوں کے علاوہ (خاص طور پر) ربیع الاول کے مہینے میں اس کے لیے فرحت و سرور (خوشی) کا اظہار کرتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ مکہ، مدینہ، مصر، شام اور ان کے علاوہ دیگر اسلامی شہروں میں جاری ہے۔ لیکن لوگ اس عمل کو کرنے میں مختلف درجات پر ہیں؛ ان میں سے کچھ وہ ہیں جو سب سے بہترین راستے پر چلتے ہیں، اور ان میں سے کچھ (غلط راستے پر چل کر) ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو جاتے ہیں۔
تو تم ہرگز اللہ کے دستور کیلئے تبدیلی نہیں پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کیلئے ٹالنا نہ پاؤ گے۔سب اپنے اپنے انداز پر کام کرتے ہیں تو تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو زیادہ ہدایت کے راستے پر ہے۔
اور سب سے پہلا شخص جس نے ان کے لیے اس مبارک عمل کی ابتدا کی اور—اگر اللہ نے چاہا—ہمیشہ رہنے والے اجر و ثواب کا حقدار بنا، وہ بادشاہ مظفر ابو سعید کوکبری بن ملک علی بن بکتکین بن محمد ہے۔ یقیناً وہ عرب و عجم کا پہلا بادشاہ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی ولادت کی خوشی میں دعوت (ولیمہ) کا اہتمام کیا اور ہر محفل میں اس کا جشن منایا، اور اس موقع پر جو کچھ (خیر و بھلائی کے کام) کیے جاتے تھے، ان کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔
اور یہ عمل (میلاد منانا) ان کے لیے ایک ایسی بدعتِ حسنہ (اچھا طریقہ) بن چکا ہے جس کے وہ ہر سال گرویدہ ہوتے ہیں، اور وہ باقی مہینوں کے علاوہ (خاص طور پر) ربیع الاول کے مہینے میں اس کے لیے فرحت و سرور (خوشی) کا اظہار کرتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ مکہ، مدینہ، مصر، شام اور ان کے علاوہ دیگر اسلامی شہروں میں جاری ہے۔ لیکن لوگ اس عمل کو کرنے میں مختلف درجات پر ہیں؛ ان میں سے کچھ وہ ہیں جو سب سے بہترین راستے پر چلتے ہیں، اور ان میں سے کچھ (غلط راستے پر چل کر) ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو جاتے ہیں۔
تو تم ہرگز اللہ کے دستور کیلئے تبدیلی نہیں پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کیلئے ٹالنا نہ پاؤ گے۔سب اپنے اپنے انداز پر کام کرتے ہیں تو تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو زیادہ ہدایت کے راستے پر ہے۔
اور سب سے پہلا شخص جس نے ان کے لیے اس مبارک عمل کی ابتدا کی اور—اگر اللہ نے چاہا—ہمیشہ رہنے والے اجر و ثواب کا حقدار بنا، وہ بادشاہ مظفر ابو سعید کوکبری بن ملک علی بن بکتکین بن محمد ہے۔ یقیناً وہ عرب و عجم کا پہلا بادشاہ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی ولادت کی خوشی میں دعوت (ولیمہ) کا اہتمام کیا اور ہر محفل میں اس کا جشن منایا، اور اس موقع پر جو کچھ (خیر و بھلائی کے کام) کیے جاتے تھے، ان کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔
دسویں صدی ہجری
10) محمد بن محمد الفتنی من کبار المحدثین بالهند ( ٩١٠ھ __٩٨٦ھ) نے فرمایا : فانه شهر أمرنا باظهار الحبور كل عام
ترجمہ: معلوم ہوا ربیع الاول میں ہر سال خوشی منانے کا حکم ہے
ترجمہ: معلوم ہوا ربیع الاول میں ہر سال خوشی منانے کا حکم ہے
11) شیخ ابن حجر ہیتمی(909 - 974 هـ) فرماتے ہیں :
ان البدعة الحسنة متفق على ندبها و عمل المولد و اجتماع الناس له كذالك
(تفسیر روح البیان___آیت:۲۹__تحت : محمد رسول اللہ )
ان البدعة الحسنة متفق على ندبها و عمل المولد و اجتماع الناس له كذالك
(تفسیر روح البیان___آیت:۲۹__تحت : محمد رسول اللہ )
12) محمد بن یوسف صالحی شامی (متوفی: 942_ھ ) فرماتے ہیں :
ولا نیة ھنا إلا الشكر لله تعالى على ولادة ھذا النبى الكریم صلى اللّٰه عليه وسلم فى ھذا الشھر الشریف، وھذا معنى نیة المولد فھى نیة مستحسنة بلا شك.
ترجمہ: اس مبارک عمل میں نیت یہی ہوتا ہے کہ انسان حضور ﷺکی ولادت پر اس مہینہ میں شکر خدا کرے ۔ یہ ایک مستحسن نیت ہے۔
ولا نیة ھنا إلا الشكر لله تعالى على ولادة ھذا النبى الكریم صلى اللّٰه عليه وسلم فى ھذا الشھر الشریف، وھذا معنى نیة المولد فھى نیة مستحسنة بلا شك.
ترجمہ: اس مبارک عمل میں نیت یہی ہوتا ہے کہ انسان حضور ﷺکی ولادت پر اس مہینہ میں شکر خدا کرے ۔ یہ ایک مستحسن نیت ہے۔
(سبل الہدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد (مترجم: پروفیسر ذوالفقار علی ساقی) ، ج-1، مطبوعہ: زاویہ پبلشرز، لاہور،پاکستان، 2012ء، ص: 336
13) ملا علی قاری رحمہ اللہ (متوفی: 1014_ھ):
انہوں نے باقاعدہ میلاد النبی ﷺ پر ایک کتاب لکھی، اور میلاد کے استحسان کے تعلق سے اپنے شیخ امام سخاوی رحمہ اللہ کے مختلف اقوال کو جگہ جگہ ذکر کیا ہے یوں ہی امام جزری کا ایک یہ قول نقل فرمایا ہے :
محفل میلاد سے شیطان کی تذلیل اور اہل ایمان کو شادمانی ہوتی ہے نیز مزید ارشاد فرمایا(امام جزری نے ) : جب اہل صلیب نے نبی کی پیدائش کو عید اکبر بنا رکھا ہے تو اہل اسلام کی ایسی تکریم کے زیادہ حق دار ہیں۔
(المورد الروی فی المولد النبوي اردو ___ ص___35____، مترجم :مفتی اعجاز احمد ___مطبوعہ : دار البیان )
13) ملا علی قاری رحمہ اللہ (متوفی: 1014_ھ):
انہوں نے باقاعدہ میلاد النبی ﷺ پر ایک کتاب لکھی، اور میلاد کے استحسان کے تعلق سے اپنے شیخ امام سخاوی رحمہ اللہ کے مختلف اقوال کو جگہ جگہ ذکر کیا ہے یوں ہی امام جزری کا ایک یہ قول نقل فرمایا ہے :
محفل میلاد سے شیطان کی تذلیل اور اہل ایمان کو شادمانی ہوتی ہے نیز مزید ارشاد فرمایا(امام جزری نے ) : جب اہل صلیب نے نبی کی پیدائش کو عید اکبر بنا رکھا ہے تو اہل اسلام کی ایسی تکریم کے زیادہ حق دار ہیں۔
(المورد الروی فی المولد النبوي اردو ___ ص___35____، مترجم :مفتی اعجاز احمد ___مطبوعہ : دار البیان )
گیارہویں صدی ہجری کے علماء
14) شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ(958ھ___1052ھ) اپنی کتاب مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں :
دریں جا سند است مر اھل موالید را که در شب میلاد آں سرور سرور کنند وبذل نمایند یعنی ابولہب کہ کافر بود چوں بسرور میلاد آں حضرت جزا داده شد تا حال مسلماں کہ مملو است بمحبت وسرور وبذل مال دردے چہ باشد لیکن باید کہ از بدعت ھا کہ عوام احداث کرده اند از تغنی وآلات محرمہ ومنکرات خالی باشد۔
دریں جا سند است مر اھل موالید را که در شب میلاد آں سرور سرور کنند وبذل نمایند یعنی ابولہب کہ کافر بود چوں بسرور میلاد آں حضرت جزا داده شد تا حال مسلماں کہ مملو است بمحبت وسرور وبذل مال دردے چہ باشد لیکن باید کہ از بدعت ھا کہ عوام احداث کرده اند از تغنی وآلات محرمہ ومنکرات خالی باشد۔
ترجمہ: اس واقعہ میں مولود والوں کی بڑی دلیل ہے جو حضور علیہ السلام کی شب ولادت میں خوشیاں مناتے اور مال خرچ کرتے ہیں یعنی ابولہب جو کافر تھا جب حضور کی ولادت کی خوشی اور لونڈی کے دودھ پلانے کی وجہ سے انعام دیا گیا تو اس مسلمان کا کیا ہوگا جو محبت خوشی سے بھرا ہوا ہے اور مال خرچ کرتا ہے لیکن چاہئیے کہ محفل میلاد شریف عوام کی بدعتوں یعنی گانے اور حرام باجوں وغیرہ سے خالی ہو۔ (مدارج النبوۃ فارسی، ____ص : ۲٦)
15 حضرت مجدد الف ثانی (971۔ 1034ھ)
امام ربانی شیخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی (1564۔ 1624ء) اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں:
15 حضرت مجدد الف ثانی (971۔ 1034ھ)
امام ربانی شیخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی (1564۔ 1624ء) اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں:
نفس قرآں خواندن بصوتِ حسن و در قصائد نعت و منقبت خواندن چہ مضائقہ است؟ ممنوع تحریف و تغییر حروفِ قرآن است، والتزام رعایۃ مقامات نغمہ و تردید صوت بآں، بہ طریق الحان با تصفیق مناسب آن کہ در شعر نیز غیر مباح است. اگر بہ نہجے خوانند کہ تحریفِ کلمات قرآنی نشود. . . چہ مانع است؟
’’اچھی آواز میں قرآن حکیم کی تلاوت کرنے، قصیدے اور منقبتیں پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ ممنوع تو صرف یہ ہے کہ قرآن مجید کے حروف کو تبدیل و تحریف کیا جائے اور اِلحان کے طریق سے آواز پھیرنا اور اس کے مناسب تالیاں بجانا جو کہ شعر میں بھی ناجائز ہے۔ اگر ایسے طریقہ سے مولود پڑھیں کہ قرآنی کلمات میں تحریف واقع نہ ہو اور قصائد پڑھنے میں مذکورہ (ممنوعہ) اَوامر نہ پائے جائیں تو پھر کون سا اَمر مانع ہے...
(ميلاد اکابر امت کی نظر میں بحوالہ مکتوبات امام ربانی)
(ميلاد اکابر امت کی نظر میں بحوالہ مکتوبات امام ربانی)
16) اِمام محمد الزرقانی (1055۔ 1122ء)
استمرَّ أهل الإسلام بعد القرون الثلاثة التي شهد المصطفى ﷺ بخيريتها، فهو بدعة. وفي أنها حسنة، قال السيوطي: وهو مقتضي كلام ابن الحاج في مدخله فإنه إنما ذم ما احتوي عليه من المحرمات مع تصريحه قبل بأنه ينبغي تخصيص هذا الشهر بزيادة فعل البرّ وكثرة الصدقات والخيرات وغير ذلك من وجوه القربات. وهذا هو عمل المولد مستحسن والحافظ أبي الخطاب بن دحية ألف في ذالك التنوير في مولد البشير النذير فأجازه الملك المظفر صاحب إربل بألف دينار، واختاره أبو الطيب السبتي نزيل قوص وهؤلاء من أجلة المالكية أو مذمومة وعليه التاج الفاكهاني وتكفل السيوطي، لردّ ما استند إليه حرفاً حرفاً والأول أظهر، لما اشتمل عليه من الخير الكثير.
يحتفلون: يهتمون بشهر مولده عليه الصلوة والسلام ويعملون الولائم ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات ويظهرون السرور به، ويزيدون في المبرات ويعتنون بقراء ة قصة مولده الكريم ويظهر عليهم من بركاته كل فضل عميم.
يحتفلون: يهتمون بشهر مولده عليه الصلوة والسلام ويعملون الولائم ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات ويظهرون السرور به، ويزيدون في المبرات ويعتنون بقراء ة قصة مولده الكريم ويظهر عليهم من بركاته كل فضل عميم.
اہلِ اسلام ان ابتدائی تین ادوار (جنہیں حضور نبی اکرم ﷺ نے خیرالقرون فرمایا ہے) کے بعد سے ہمیشہ ماہِ میلادالنبی ﷺ میں محافلِ میلاد منعقد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ عمل (اگرچہ) بدعت ہے مگر بدعتِ حسنہ ہے (جیسا کہ) امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے، اور المدخل میں ابنِ الحاج کے کلام سے بھی یہی مراد ہے اگرچہ انہوں نے ان محافل میں در آنے والی ممنوعات (محرمات) کی مذمت کی ہے، لیکن اس سے پہلے تصریح فرما دی ہے کہ اس ماہِ مبارک کو اعمالِ صالحہ، اور صدقہ و خیرات کی کثرت اور دیگر اچھے کاموں کے لیے خاص کر دینا چاہیے۔ میلاد منانے کا یہی طریقہ پسندیدہ ہے۔ حافظ ابو خطاب بن دحیہ کا بھی یہی مؤقف ہے جنہوں نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب التنوير في المولد البشير والنذير تالیف فرمائی جس پر مظفر شاہِ اربل نے انہیں ایک ہزار دینار (بطور انعام) پیش کیے۔ اور یہی رائے ابوطیب سبتی کی ہے جو قوص کے رہنے والے تھے۔ یہ تمام علماء جلیل القدر مالکی ائمہ میں سے ہیں۔ یا پھر یہ (عملِ مذکور) بدعتِ مذمومہ ہے جیسا کہ تاج فاکھانی کی رائے ہے۔ لیکن امام سیوطی نے ان کی طرف منسوب عبارات کا حرف بہ حرف ردّ فرمایا ہے، (بہرحال) پہلا قول ہی زیادہ راجح اور واضح تر ہے، بایں وجہ یہ اپنے دامن میں خیرِ کثیر رکھتا ہے۔
"لوگ (آج بھی) ماہِ میلادالنبی ﷺ میں اجتماعات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں اور اس کی راتوں میں طرح طرح کے صدقات و خیرات دیتے ہیں اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ کثرت کے ساتھ نیکیاں کرتے ہیں اور مولود شریف کے واقعات پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی خصوصی برکات اور بے پناہ فضل و کرم ان پر ظاہر ہوتا ہے۔
(زرقانی، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 261،262
دار الکتب العلمیۃ)
"لوگ (آج بھی) ماہِ میلادالنبی ﷺ میں اجتماعات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں اور اس کی راتوں میں طرح طرح کے صدقات و خیرات دیتے ہیں اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ کثرت کے ساتھ نیکیاں کرتے ہیں اور مولود شریف کے واقعات پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی خصوصی برکات اور بے پناہ فضل و کرم ان پر ظاہر ہوتا ہے۔
(زرقانی، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 261،262
دار الکتب العلمیۃ)
بارہویں صدی ہجری
17 شیخ اِسماعیل حقی (1063۔ 1137ھ)
فرماتے ہیں :
ومن تعظيمه عمل المولد إذا لم يکن فيه منکر. قال الإمام السيوطي قُدّس سره: يستحب لنا إظهار الشکر لمولده عليه السلام.
ترجمہ: اور میلاد شریف منانا آپ ﷺ کی تعظیم میں سے ہے جب کہ وہ منکرات سے پاک ہو۔ اِمام سیوطی نے فرمایا ہے: ہمارے لیے آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر اِظہارِ شکر کرنا مستحب ہے۔
فرماتے ہیں :
ومن تعظيمه عمل المولد إذا لم يکن فيه منکر. قال الإمام السيوطي قُدّس سره: يستحب لنا إظهار الشکر لمولده عليه السلام.
ترجمہ: اور میلاد شریف منانا آپ ﷺ کی تعظیم میں سے ہے جب کہ وہ منکرات سے پاک ہو۔ اِمام سیوطی نے فرمایا ہے: ہمارے لیے آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر اِظہارِ شکر کرنا مستحب ہے۔
18شاہ عبد الرحیم دہلوی (1054۔ 1131ھ)
19 شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1114۔ 1174ھ)
19 شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1114۔ 1174ھ)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب الدر الامین میں اپنے والد کے تعلق سے یہ واقعہ بیان فرماتے ہیں :
كنت أصنع في أيام المولد طعاماً صلة بالنبي ﷺ ، فلم يفتح لي سنة من السنين شيء أصنع به طعاماً، فلم أجد إلا حمصًا مقليًا فقسمته بين الناس، فرأيته ﷺ وبين يديه هذا الحمص متبهجاً بشاشا.
ترجمہ: میں ہر سال حضور ﷺ کے میلاد کے موقع پر کھانے کا اہتمام کرتا تھا، لیکن ایک سال (بوجہ عسرت شاندار) کھانے کا اہتمام نہ کر سکا، تو میں نے کچھ بھنے ہوئے چنے لے کر میلاد کی خوشی میں لوگوں میں تقسیم کر دیئے۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور ﷺ کے سامنے وہی چنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ ﷺ خوش و خرم تشریف فرما ہیں۔
(شاہ ولی اللہ، الدر الثمين في مبشرات النبي الأمينﷺ:40)
(شاہ ولی اللہ، الدر الثمين في مبشرات النبي الأمينﷺ:40)
تیرہویں صدی ہجری
20 مفتی محمد عنایت احمد کاکوروی (1228۔ 1279ھ)
علم الفرائض، علم الصیغۃ اور نقشہ مواقع النجوم جیسی کئی کتب کے مصنف مفتی محمد عنایت احمد کاکوروی (1813۔ 1863ء) تواریخِ حبیبِ الٰہ یعنی سیرتِ سید المرسلین ﷺ جو اُردو زبان میں سیرتِ طیبہ پر پہلی کتاب ہے۔ میں لکھتے ہیں:
علم الفرائض، علم الصیغۃ اور نقشہ مواقع النجوم جیسی کئی کتب کے مصنف مفتی محمد عنایت احمد کاکوروی (1813۔ 1863ء) تواریخِ حبیبِ الٰہ یعنی سیرتِ سید المرسلین ﷺ جو اُردو زبان میں سیرتِ طیبہ پر پہلی کتاب ہے۔ میں لکھتے ہیں:
ماہِ ربیع الاول روزِ دوشنبہ کو آپ ﷺ کے سبب سے شرفِ عظیم حاصل ہوا۔ حرمین شریفین اور اکثر بلادِ اسلام میں عادت ہے کہ ماہِ ربیع الاول میں محفلِ میلاد شریف کرتے ہیں اور مسلمانوں کو مجتمع کر کے ذکرِ مولود شریف کرتے ہیں اور کثرت درود کی کرتے ہیں، اور بطور دعوت کے کھانا یا شیرینی تقسیم کرتے ہیں۔ سو یہ اَمر موجبِ برکاتِ عظیمہ ہے اور سبب ہے اِزدیادِ محبت کا ساتھ جناب رسول اللہ ﷺ کے۔ بارہویں ربیع الاول کو مدینہ منورہ میں یہ متبرک محفل مسجدِ نبوی شریف میں ہوتی ہے اور مکہ معظمہ میں مکانِ ولادتِ آنحضرت ﷺ میں۔ (تواریخ حبیب الہ___ص:۱٤ ___مطبوعہ : مکتبہ مہریہ رضویہ)
21 سید احمد بن زینی دحلان (1233۔ 1304ھ)
اپنی کتاب السیرة النبوية ﷺ صفحہ ۵۳ میں فرماتے ہیں :
جرت العادة أن الناس إذا سمعوا ذكر وضعه ﷺ يقومون تعظيماً له ﷺ وهذا القيام مستحسن لما فيه من تعظيم النبي ﷺ ، وقد فعل ذلك كثير من علماء الأمة الذين يقتدىٰ بهم . قال الحلبي في السيرة : فقد حكىٰ بعضهم أن الإمام السبكي اجتمع عنده كثير من علماء عصره فأنشد منشد قول الصرصري في مدحه ﷺ :
قليل لمدح المصطفى الخط بالذهب
علىٰ ورق من خط أحسن من كتب
وأن تنهض الأشراف عند سماعه
قياماً صفوفاً أو جيشاً على الركب
فعند ذلك قام الإمام السبكي وجميع من بالمجلس فحصل أنس كبير في ذلك المجلس ، وعمل المولد . واجتماع الناس له كذلك مستحسن ، قال الإمام أبو شامة
اپنی کتاب السیرة النبوية ﷺ صفحہ ۵۳ میں فرماتے ہیں :
جرت العادة أن الناس إذا سمعوا ذكر وضعه ﷺ يقومون تعظيماً له ﷺ وهذا القيام مستحسن لما فيه من تعظيم النبي ﷺ ، وقد فعل ذلك كثير من علماء الأمة الذين يقتدىٰ بهم . قال الحلبي في السيرة : فقد حكىٰ بعضهم أن الإمام السبكي اجتمع عنده كثير من علماء عصره فأنشد منشد قول الصرصري في مدحه ﷺ :
قليل لمدح المصطفى الخط بالذهب
علىٰ ورق من خط أحسن من كتب
وأن تنهض الأشراف عند سماعه
قياماً صفوفاً أو جيشاً على الركب
فعند ذلك قام الإمام السبكي وجميع من بالمجلس فحصل أنس كبير في ذلك المجلس ، وعمل المولد . واجتماع الناس له كذلك مستحسن ، قال الإمام أبو شامة
اردو ترجمہ:
لوگوں کی عادت ہے کہ جب آپ ﷺ کی ولادتِ با سعادت (وضعِ حمل) کا ذکر سنتے ہیں، تو آپ ﷺ کی تعظیم و احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور یہ قیام (کھڑا ہونا) پسندیدہ (مستحسن) ہے کیونکہ اس میں نبی کریم ﷺ کی تعظیم پائی جاتی ہے، اور امت کے بہت سے ایسے جلیل القدر علماء نے ایسا کیا ہے جن کی اقتدا کی جاتی ہے۔ علامہ حلبی نے اپنی کتاب 'السیرۃ الحلبیہ' میں کہا ہے: بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ امام (تقی الدین) السبکی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ان کے دور کے بہت سے علماء جمع تھے۔ وہاں ایک پڑھنے والے نے آپ ﷺ کی مدح و ثنا میں امام صرصری کا یہ شعر پڑھا:
قليل لمدح المصطفى الخط بالذهب
علىٰ ورق من خط أحسن من كتب
وأن تنهض الأشراف عند سماعه
قياماً صفوفاً أو جيشاً على الركب
بس یہ شعر سنتے ہی امام سبکی اور مجلس میں موجود تمام لوگ (احتراماً) کھڑے ہو گئے، جس کی وجہ سے اس محفل میں ایک عظیم روحانی سرور اور انس حاصل ہوا، اور میلاد کا عمل پورا ہوا۔ اور اسی طرح میلاد کے لیے لوگوں کا اکٹھا ہونا بھی پسندیدہ ہے، جیسا کہ امام ابو شامہ نے فرمایا۔۔۔
علامہ ابن عابدین شامی اور آپکے بھتیجے سید احمد بن عبد الغنى رحمہ اللہ نے بھی مولد النبی ﷺ کے استحسان کو بیان کیا ہے، کتابوں میں عبارت نہ مل پانے کی وجہ سے مستقلا ذکر نہیں کر رہا ہوں
لوگوں کی عادت ہے کہ جب آپ ﷺ کی ولادتِ با سعادت (وضعِ حمل) کا ذکر سنتے ہیں، تو آپ ﷺ کی تعظیم و احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور یہ قیام (کھڑا ہونا) پسندیدہ (مستحسن) ہے کیونکہ اس میں نبی کریم ﷺ کی تعظیم پائی جاتی ہے، اور امت کے بہت سے ایسے جلیل القدر علماء نے ایسا کیا ہے جن کی اقتدا کی جاتی ہے۔ علامہ حلبی نے اپنی کتاب 'السیرۃ الحلبیہ' میں کہا ہے: بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ امام (تقی الدین) السبکی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ان کے دور کے بہت سے علماء جمع تھے۔ وہاں ایک پڑھنے والے نے آپ ﷺ کی مدح و ثنا میں امام صرصری کا یہ شعر پڑھا:
قليل لمدح المصطفى الخط بالذهب
علىٰ ورق من خط أحسن من كتب
وأن تنهض الأشراف عند سماعه
قياماً صفوفاً أو جيشاً على الركب
بس یہ شعر سنتے ہی امام سبکی اور مجلس میں موجود تمام لوگ (احتراماً) کھڑے ہو گئے، جس کی وجہ سے اس محفل میں ایک عظیم روحانی سرور اور انس حاصل ہوا، اور میلاد کا عمل پورا ہوا۔ اور اسی طرح میلاد کے لیے لوگوں کا اکٹھا ہونا بھی پسندیدہ ہے، جیسا کہ امام ابو شامہ نے فرمایا۔۔۔
علامہ ابن عابدین شامی اور آپکے بھتیجے سید احمد بن عبد الغنى رحمہ اللہ نے بھی مولد النبی ﷺ کے استحسان کو بیان کیا ہے، کتابوں میں عبارت نہ مل پانے کی وجہ سے مستقلا ذکر نہیں کر رہا ہوں
22 علامہ نقی علی خانرحمة الله عليه نے ان لفظوں میں لکھا :
ملت جدیدہ کے واعظین اس امر خیر باعث نزول صد رحمت،منتج ہزاران ہزار برکت کے مٹانے میں ہمہ تن مصروف،
اور نئی امت کے متکلمین اس عمل مبارک کو کہ عمدۂ مستحبات و بہترین مندوبات سے ہے بدعت سیئہ ٹھہرانے میں اس درجہ مشغوف
ملت جدیدہ کے واعظین اس امر خیر باعث نزول صد رحمت،منتج ہزاران ہزار برکت کے مٹانے میں ہمہ تن مصروف،
اور نئی امت کے متکلمین اس عمل مبارک کو کہ عمدۂ مستحبات و بہترین مندوبات سے ہے بدعت سیئہ ٹھہرانے میں اس درجہ مشغوف
چودھویں صدی ہجری
23 سیدی اعلی حضرت رحمة الله عليه فتاوی رضویہ شریف ج٢٤ ص ٤٩٢ میں مجلس میلاد کا حکم ان لفظوں میں بیان کیا :
مجالس میلاد اعلی مستحب و مندوب و بہتر و خوب ہے
نو سو سال سے امت بالتواتر ۱۲ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ مناتے چلی آ رہی ہے اور ہر صدی کے اکابر علماء نے اسے پسند کیا ہے، دو درجن عمائدین امت علماء کے اقوال مذکور ہوئے تو کیا اب بھی علماء امت کا استحسان ثابت نہیں ہوتا ہے؟ اور اب بھی میلاد النبی ﷺ کا ما راه المؤمنون حسنا فهو عند الله حسن کا فرد جلی ہونا واضح نہیں ہوتا ؟
مجالس میلاد اعلی مستحب و مندوب و بہتر و خوب ہے
نو سو سال سے امت بالتواتر ۱۲ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ مناتے چلی آ رہی ہے اور ہر صدی کے اکابر علماء نے اسے پسند کیا ہے، دو درجن عمائدین امت علماء کے اقوال مذکور ہوئے تو کیا اب بھی علماء امت کا استحسان ثابت نہیں ہوتا ہے؟ اور اب بھی میلاد النبی ﷺ کا ما راه المؤمنون حسنا فهو عند الله حسن کا فرد جلی ہونا واضح نہیں ہوتا ؟
یقینا ہوتا ہے لیکن اب ساری امت کو جھٹلا کر جو انکار پر بضد ہوں تو وہ اسی مرض کا شکار ہے جسکا ذکر امام ابن جزری رحمہ اللہ نے کیا کہ محفل میلاد سے شیطان کی ذلت و رسوائی ، اور مومنین کی محبت میں اضافے کا سبب ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے یوم میلاد قریب آتا ہے مومنین کے دل میں جذبۂ عشق موجیں مارنے لگتا ہے اور جسم کا ہر عضو ان جذبات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بے تاب ہو جاتا ہے اسی کے نتیجے میں کہیں عاشقین مرحبا مرحبا کی صدائیں لگاتے ہیں، کہیں استقبالی جھنڈیاں لہراتے جاتی ہیں ، اور کہیں محبوب ﷺ کے ذکر سے اپنے دلوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہے
دوسری طرف جوں جوں یوم میلاد قریب ہوتے جاتا ہے منافقین کے دلوں کی کڑھن بڑھتی جاتی ہے اور بے چین، بے قرار مارا مارا پھرتا ہے، اور اسی سرگشگی میں بے سر و پا سوالات کے ذریعے مومنین کے دلوں میں شبہات ڈالنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے
یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے یوم میلاد قریب آتا ہے مومنین کے دل میں جذبۂ عشق موجیں مارنے لگتا ہے اور جسم کا ہر عضو ان جذبات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بے تاب ہو جاتا ہے اسی کے نتیجے میں کہیں عاشقین مرحبا مرحبا کی صدائیں لگاتے ہیں، کہیں استقبالی جھنڈیاں لہراتے جاتی ہیں ، اور کہیں محبوب ﷺ کے ذکر سے اپنے دلوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہے
دوسری طرف جوں جوں یوم میلاد قریب ہوتے جاتا ہے منافقین کے دلوں کی کڑھن بڑھتی جاتی ہے اور بے چین، بے قرار مارا مارا پھرتا ہے، اور اسی سرگشگی میں بے سر و پا سوالات کے ذریعے مومنین کے دلوں میں شبہات ڈالنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
لیکن اے میرے سنی بھائیوں شیطان کو بھگانے کے لئے تم ذکر مصطفی ﷺ کو ابراہیمی کنکر بنا لو اور نفس سے کہ دو :
دشمن احمد پہ شدت کیجئے
ملحدوں کی کیا مروّت کیجیے
ذکر اُن کا چھیڑیے ہر بات میں
چھیڑنا شیطاں کا عادت کیجیے
مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں
ذکرِ آیاتِ ولادت کیجیے
غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل
یَا رَسُوْلَ اللہ کی کثرت کیجیے
اور امام عشق و محبت کے ساتھ مل کر کہئے
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضا
دَم میں جب تک دَم ہے ذکر اُن کا سناتے جائیں گے
ملحدوں کی کیا مروّت کیجیے
ذکر اُن کا چھیڑیے ہر بات میں
چھیڑنا شیطاں کا عادت کیجیے
مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں
ذکرِ آیاتِ ولادت کیجیے
غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل
یَا رَسُوْلَ اللہ کی کثرت کیجیے
اور امام عشق و محبت کے ساتھ مل کر کہئے
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضا
دَم میں جب تک دَم ہے ذکر اُن کا سناتے جائیں گے

















